بھارت میں پیسوں کیلیے بوڑھوں کو شیر کا نوالہ بنایا جانے لگا

8

ھارت میں ایک خطرناک اور پریشان کن رجحان دیکھنے میں آیا ہے جہاں غریب افراد پیسوں کے لیے اپنے خاندان کے بزرگوں کو شیروں کا نوالہ بنا رہے ہیں۔ 

بھارتی ضلعے پیلی بھیت میں ٹائیگر ریزرو کے اطراف دیہات میں غریب خاندان اپنے بزرگوں کو جان بوجھ کر شیروں کی کچھار کی جانب بھیجتے ہیں جو ان درندوں کا نوالہ بن جاتے ہیں جس کے بدلے میں متاثرہ خاندان کو چند لاکھ کا معاوضہ مل جاتا ہے جب کہ موت کے اس تکلیف دہ کھیل میں خاندان کے بزرگوں کی مرضی شامل ہوتی ہے۔

حالیہ چند ماہ میں ایسے کئی واقعات دیکھنے میں آئے جب انتہائی غربت کے شکار خاندانوں نے معاوضے کی رقم کے عوض اپنے  بزرگوں کو خود خونخوار شیروں کی جانب بھیجا اور ان کی بریدہ لاش ملی اور خاندان والوں نے متعلقہ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ سے ہرجانے کی رقم لاکھوں میں وصول کی۔

ٹائیگر ریزرو کے قانون کے مطابق اگر کوئی دیہاتی حادثاتی طور پر شیروں کا شکار بن جاتا ہے تو بھارتی حکومت انہیں معاوضہ دینے کی پابند ہے۔

بھارت میں وائلڈ لائف کرائم کنٹرول بیوریو (ڈبلیو سی سی بی) کے افسر کلیم اطہر کے مطابق پیلی بھیت ٹائیگر ریزرو (پی ٹی آر) کے اطراف ہونے والے سانحات کا بغور جائزہ لیا گیا ہے اور یوں لگتا ہے کہ یہ عمل جان بوجھ کر کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب اطراف کے دیہاتیوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ایسا جان بوجھ کر کیا جارہا ہے کیونکہ عام افراد جنگلات کے وسائل استعمال نہیں کرپارہے، یہی وجہ ہے کہ وہ یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہیں جب کہ ایک کسان جرنیل سنگھ نے بتایا کہ اس طرح وہ غربت سے باہر نکلنے کی کوشش کررہے ہیں۔

یکم جولائی کو ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا جب 55 سالہ ایک خاتون کو شیر نے مار ڈالا۔ افسروں کے مطابق اس خاتون کی لاش سے ڈیڑھ کلومیٹر دور اس کے کپڑے برآمد ہوئے ہیں جب کہ خاتون کے قدموں کے نشانات بتاتے ہیں کہ وہ عمررسیدگی کے باوجود خود چل کر شیروں کی جانب گئی تھی۔

واضح رہے کہ پیلی بھیت جنگل نیپال کی سرحد کے قریب واقع ہے جہاں اب تک 50 شیروں کی تصدیق ہوچکی ہے اور دنیا بھر میں اسے شیروں کے اہم پارک کا درجہ حاصل ہے جب کہ فروری 2016 سے اب تک 7 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں قریبی جنگل مالا کے دیہاتیوں کو شیروں نے چیر پھاڑ کر نوالہ بنایا ہے اور ان میں اکثریت انتہائی بوڑھے افراد کی ہے۔