ہمارا نیا میزائل خبیث امریکا کے یوم آزادی پر تحفہ ہے، شمالی کوریا

15

شمالی کوریا نے اپنے نئے بین البراعظمی میزائل تجربے کو امریکا کے یوم آزادی پر امریکیوں کے لیے تحفہ قرار دے دیا۔

شمالی کوریا نے گزشتہ روز بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ’’ہواسونگ 14‘‘ کا کامیاب تجربہ کیا جو جاپان کے سمندر میں جاگرا۔ اس حوالے سے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے اپنے بیان میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے اس میزائل کو خبیث امریکیوں کے لیے 4 جولائی کو امریکا کے یوم آزادی کا تحفہ قرار دے دیا۔

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کورین سنٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق کم جونگ ان نے کہا کہ امریکا نے ہمارے عزم کو آزمانا چاہا اور ہماری وارننگز کو نظر انداز کردیا، ’’امریکی باسٹرڈز‘‘ 4 جولائی کو بھیجے گئے ہمارے اس تحفے سے زیادہ خوش نہیں ہوں گے، ہمیں وقتا فوقتا ان کی بوریت دور کرنے کے لیے اس طرح کے تحفے بھیجتے رہنے چاہئیں۔

کم جونگ ان نے کہا کہ میزائل کسی پرکشش لڑکے کی طرح خوبصورت ہے اور جب تک امریکا اپنے دشمنی پر مبنی پالیسی ختم نہیں کردیتا تب تک شمالی کوریا اپنے اسلحہ پروگرام کو بند کرنے کے معاملے پر امریکا سے مذاکرات نہیں کرے گا۔

لاوہ ازیں ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے میزائل تجربے کے بعد امریکی ریاست الاسکا شمالی کوریا کے نشانے پر آگئی ہے۔  امریکی سائنس دانوں کی انجمن گلوبل سیکیورٹی پروگرام کے افسر ڈیوڈ رائٹ نے کہا کہ پرواز کے دورانیے اور فاصلے سے پتہ چلتا ہے کہ میزائل 6700 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میزائل کی رینج اتنی نہیں کہ امریکا کی ذیریں 48 ریاستوں یا ہوائی کے جزائر تک پہنچ سکے لیکن الاسکا تک ضرور پہنچ سکتا ہے۔ ادھر امریکا کے وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا کہ شمالی کوریا کے نئے میزائل تجربے سے دنیا کو لاحق خطرے میں اضافہ ہوگیا ہے۔