آصف زرداری اور بلاول کی نیب میں پیشی، درجنوں پی پی کارکن گرفتار

100

آصف علی زرداری اور ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری منی لانڈرنگ کیس میں نیب کے سامنے پیش ہوگئے جبکہ اس موقع پر پی پی پی کے مشتعل کارکنوں اور پولیس میں جھڑپ ہوئی جس کے بعد درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

سابق صدرآصف علی زرداری اوربلاول بھٹو نیب راولپنڈی کے سامنے پیش ہوگئے۔ دونوں میگا منی لانڈرنگ کیس میں نیب راولپنڈی کواپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔

اس موقع پر پی پی پی رہنماؤں اورکارکنوں کی بڑی تعداد نیب دفترکے باہر موجود ہے اور شدید نعرے بازی کی جارہی ہے۔ نیب دفتر کے باہرپولیس اورپیپلزپارٹی کے کارکنوں میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور کارکنوں کی بڑی تعداد پولیس کے تمام حصارتوڑتے ہوئے نیب دفترکے باہرپہنچ گئی اور بہت سے افراد دفتر کے اندر بھی داخل ہوگئے۔

کارکنوں نے بلاول کی گاڑی کو بھی گھیرے میں لے لیا، پولیس اہلکاروں نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے کارکنوں کو نیب دفتر کے گیٹ سے دوردھکیلنے کی کوشش کی، تاہم انہیں قابو کرنے میں پولیس مکمل طورپرناکام ہوگئی، اس دوران سیاسی کارکنوں اور پولیس میں ہاتھاپائی ہوئی ۔ قمر زمان کائرہ  نے بتایا کہ پولیس نے ہمارے کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کردیا ہے اور اب تک 200 سے زائد کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق نیب ٹیم نے 100 سے زائد سوالات پرمشتمل سوال نامہ بھی تیارکرلیا ہے، سابق صدر اور بلاول بھٹوزرداری سے پارک لین کمپنی سے متعلق پوچھ گچھ کی جائے گی اورنیب کی دونوں ٹیمیں آصف زرداری اور بلاول کا بیان ریکارڈ کریں گی۔

نیب دفتر کے اطراف سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے جب کہ ڈی چوک سے پارلیمنٹ جانے والے راستے کوبھی پولیس کی جانب سے بند کردیا گیا ہے۔

گزشتہ روز آصف زرداری اورفریال تالپورکوسندھ ہائیکورٹ سے 10 دن کی حفاظتی ضمانت مل گئی تھی اور 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔