‘نواز شریف کو روک سکتے ہو تو روک لو، چوتھی بار بھی وزیر اعظم بنیں گے’

14

وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ نواز شریف محب وطن ہیں اس لئے ان کے خلاف سازشیں ہوتی ہیں لیکن وہ ہربار وزیراعظم بنیں گے روک سکتے ہو تو روک لو۔

وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئیں جہاں انہوں نے اپنا بیان ریکارڈ کروادیا۔ پیشی کے دوران مریم نواز سے ان کے بھائیوں کی بیرون ملک کمپنیوں اور اثاثوں سے متعلق سوالات پوچھے گئے۔

جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے جو کچھ پوچھا میں نے اس کا جواب دیا، اپنے والد، چچا، بھائیوں کی پیشیوں کے بعد آج میں نے پاکستان اور ایک وزیراعظم کی بیٹی ہونے کی حیثیت سے وہ قرض بھی اتار دیا جو مجھ پر واجب بھی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جے آئی ٹی سے پوچھا کہ ہم پر الزام کیا ہے لیکن ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا، دنیا کی پہلی جے آئی ٹی ہے جو پہلے بن گئی اور اب الزام ڈھونڈرہی ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ وہ تیسری بار ملک کے وزیراعظم ہیں، 60، 70 یا 80 کی دہائی میں خاندان کے بزنس کے گرد سوال گھوم رہے ہیں جب کہ ایک خاندان کے ذاتی کاروبار کے بارے میں سوال نہ پوچھنا بنتا ہے اور نہ اس کا جواب دینا بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ذمے عوام کا کوئی پیسہ واجب الادا نہیں ہے جب کہ قوم کا پیسہ ہڑپ کرنے والوں نے اسٹے آرڈر لے رکھے ہیں، جن لوگوں کا کوئی کاروبار نہیں جو مانگ تانگ کر گزارا کرتے ہیں ان سے کوئی سوال کیوں نہیں کرتا۔

مریم نواز نے کہا کہ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں رلاؤں گا تو وہ سن لے کہ جھکانے اور رلانے کی طاقت صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، حکمرانوں کا احتساب اللہ کے دربار میں بہت کڑا ہوتا ہے لہذا ہم تو جواب دے رہے ہیں اور یہ کوئی پہلا احتساب نہیں پانچواں احتساب ہورہا ہے، حکمران ہونے کے ناطے جو حساب ہم نے آخرت میں دینا تھا اس کا کچھ بوجھ ہلکا ہوگیا مگر اس انسان کی دنیا اور آخرت سے بھی خوف آتا ہے جس نے جھوٹے الزامات اور بہتان 20 کڑور عوام کے سامنے  لگائے ہیں، یہ اس دنیا میں تو کیا شاید اگلی دنیا میں بھی حساب نہ دیں سکیں۔

مریم نواز نے کہا کہ یہ پہلی لیکس نہیں بلکہ اس سے پہلے ڈان لیکس میں بھی ملوث کیا گیا تھا اور وجہ صرف یہی ہے کہ بیٹی کو استعمال کرکے باپ پر دباؤ ڈالنا ہے لیکن نواز شریف کی بیٹی کو اس کی کمزوری سمجھنے والے اس کی طاقت پائیں گے، میں اس شخص کی بیٹی ہوں جس نے مجھے حق کے لیے کھڑا ہونا سکھایا، جس نے ترغیب دی کہ ظلم کے آگے سر نہیں جھکانا مگر وہ لوگ یہ نہیں سمجھ سکتے جن کو بیٹیوں کی قدر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی اقتدار کے ایوانوں یا نتھیا گلی کے سرکاری ریسٹ ہاؤس میں چھپ سکتے تھے لیکن ہم نے 3 نسلوں کا بار بار حساب دیا، یہ یاد رکھا جائے کہ جس طرح نواز شریف احتساب کی کڑی بھٹی سے گزر کر آئے ہیں وہ یہ احتساب اور زخم سینے پر سجاکر 2018 میں عوام کے پاس جائیں گے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف محب وطن ہیں اس لیے ان کے خلاف سازشیں ہوتی ہیں، پوری قوم ان پر اعتبار کرتی ہے، کسی بھی لیڈر میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام کے خلاف دیوار بن کر کھڑا ہوجائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس میں4،5 سو اور بھی خاندانوں کے نام آئے ہیں لیکن جنہوں نے ہم پر مقدمہ کیا ان کی اپنی آف شور کمپنی ہے، پاناما لیکس کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہے لہذا ان کو بھی جواب دینا ہوگا، 6 مہینے سپریم کورٹ میں کیس چلا اور 70 دن جے آئی ٹی میں لیکن ان کے پاس کچھ نہیں ہے جب کہ منی ٹریل بہت پہلے دے چکے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ اگر نواز شریف کے خلاف سازش کرو گے تو نواز شریف پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ واپس آئے گا، اب اگر نواز شریف کے خلاف سازش ہوئی تو وہ چوتھی اور پانچویں بار بھی وزیراعظم بنیں گے، روک سکتے ہو تو روک لو ورنہ وہ 2018 کا بھی الیکشن جیت جائیں گے۔

حسین نواز کا کہنا تھا کہ اگر منی ٹریل کی بات کرنی ہے تو اس شخص سے بات کریں جس کے پاکستان میں اثاثے ہیں لیکن وہ منی ٹریل نہیں دے سکا ہے، اگر نواز شریف کی منی ٹریل کی بات کرنی ہے تو وہ ہم دے چکے ہیں جب کہ نواز شریف کا کسی اثاثہ کے ساتھ تعلق ثابت کریں پھر ہم بات کریں گے۔

اس سے قبل مریم نواز فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی دونوں بھائیوں حسن، حسین اور شوہر صفدر کے ساتھ پہنچیں جب کہ ان کے ہمراہ وزیر مملکت مریم اورنگزیب اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی آصف کرمانی بھی تھے۔

جے آئی ٹی میں پیشی کے لیے روانگی سے قبل مریم نواز نے اپنی والدہ کلثوم نواز سے ملاقات کی، سوشل میڈیا میں جاری کی گئی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ کلثوم نواز نے اپنی بیٹی کو دعائیں دے کر رخصت کیا۔ اس موقع پر خاتون اول کے ہاتھ میں قرآن پاک کا نسخہ بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

مریم نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے اطراف سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے، جوڈیشل اکیڈمی کے اطراف پولیس، ایف سی اور رینجرز کے دستے تعینات تھے جب کہ جوڈیشل اکیڈمی کے باہر لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔  (ن) لیگی کارکنوں کی جانب سے مریم نواز کے حق میں  فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے اطراف بینرز بھی آویزاں کر دیئے گئے ہیں جس پر مریم نواز کے حق میں نعرے درج ہیں۔