جے آئی ٹی کا معاملہ حل ہوجائے پھر دھرنا پارٹی سے نمٹ لیں گے، وزیراعظم

10

وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ میں نے کبھی بھڑک نہیں ماری لیکن جے آئی ٹی کا معاملہ حل ہوجائے پھر دھرنا پارٹی سے بھی نمٹ لیں گے۔

دوشبنے سے وطن واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ دورہ تاجکستان کامیاب رہا، افغان صدر نے تجارتی راہداری کے لیے بھارت کو راستہ دینے کی تجویز دی جس پر ہم نے کہا پہلے پاکستان، تاجکستان اور افغانستان اپنے معاملات بہتربنالیں، بھارت سے متعلق معاملہ بعد میں دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے  مظالم کا سلسلہ جاری ہے اورکچھ ہی دنوں میں  100 سےزائد کشمیری شہید کردیئے گئے، ایسے حالات میں بھارت سے کاروبار کی بات کیسے ہوسکتی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان کےالزام کا جواب دیا کہ ہماری طرف سے کوئی مداخلت نہیں ہورہی جب کہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے پاک بھارت تعلقات خراب ہوئے لہذا بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند اور مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف آنا چاہیے۔ فریش مینڈیٹ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی بھڑک نہیں ماری لیکن جے آئی ٹی کا معاملہ حل ہوجائے پھر دھرنا پارٹی سے بھی نمٹ لیں گے،  یہ ہر سازش میں شریک رہے اور سازشیں کرتے رہے اور 2014  میں ان کے دھرنوں کو دیکھ لیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جس نے ایٹمی دھماکے کا بٹن دبایا اسی کا احتساب ہورہا ہے وہ بھی جعلی، ہم خود جے آئی ٹی کے عمل سے گزرنا چاہتے ہیں اور حالات کا تقاضا بھی یہی ہے،سپریم کورٹ کے کسی بھی قسم کے فیصلے کا انتظار کررہے ہیں جب کہ جمہوریت کو مجھ سے کوئی خطرہ نہیں۔