تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونکنے والےبرہان وانی کی برسی آج منائی جا رہی ہے، مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ

9

شہید نوجوان حریت پسند رہنما برہان وانی کی پہلی برسی کے موقع پر منعقد ہونے والی ریلیوں اور احتجاج کو روکنے کے لئے قابض بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا ہے جب کہ پوری وادی میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج سے برسرپیکار حریت پسند رہنما اور حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی شہادت کو ایک برس ہو چکا ہے، برہان وانی کے یوم  شہادت کے موقع پر وادی میں احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا ہے تاہم قابض بھارتی فورسز نے حریت پسند رہنما کی برسی سے کئی روز قبل ہی کشمیری شہریوں پر پابندیاں نافذ کرنا شروع کردیں تھیں، حریت رہنماؤں اور نوجوانوں کی گرفتاریوں کا عمل اب تک جاری ہے، گزشتہ روز سے ہی سری نگر میں بھی کرفیو نافذ کر کے شہریوں کو دوسرے علاقوں کی جانب جاتے سے روکا جا رہا ہے۔

بھارتی پولیس نے برہان مظفر وانی کی شہادت کی پہلی برسی پر جاری کردہ احتجاجی پروگراموں کو ناکام بنانے کے لیے حریت رہنماؤں اور عام کشمیری نوجوانوں کی گرفتاری کا سلسلہ تیز کر دیا ہے اور گزشتہ روز شہید برہان وانی کے والد مظفر احمد وانی کو بھی پولیس اسٹیشن طلب کر کے ڈرایا دھمکایا گیا۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے اور پولیس نے انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے والے اداروں کو حکم دیا ہے کہ تمام سوشل میڈیا ویب سائٹس کو بلاک کردیا جائے جب کہ نیٹ سروس کے ساتھ ساتھ موبائل فون سروس بھی معطل کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا گیا ہے