ورلڈ ہاکی لیگ ؛ بھارت پاکستان کو ہرا کر بھی فکسنگ کا رونا رونے لگا

9

بھارت ورلڈ ہاکی لیگ میں پاکستان کو ہرا کر بھی فکسنگ کا رونا رونے لگا،ایف آئی ایچ کو جمع کردہ درخواست میں کہا گیا کہ ایک پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ نے خاتون کو کھلاڑی سردار سنگھ کیخلاف شکایت درج کرانے کیلیے اکسایا،ٹورنامنٹ کے دوران ہی تفتیش سے پلیئر اور ٹیم کی کارکردگی بُری طرح متاثر ہوئی،عالمی باڈی میزبان انگلینڈ کو بھارتی الزامات کی تحقیقات کیلیے درخواست کریگی۔

تفصیلات کے مطابق ورلڈ ہاکی لیگ سیمی فائنل کے میچز گزشتہ ماہ لندن میں مکمل ہوئے، اچھا آغاز کرنے کے بعد مسلسل شکستوں کی وجہ سے بھارتی ٹیم چھٹی پوزیشن پر رہی، ہاکی انڈیا نے ان شکستوں کا ملبہ ایک پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ پر ڈالتے ہوئے کہاکہ بھارتی ٹیم مسلسل3 فتوحات کے ساتھ انتہائی پُراعتماد نظر آرہی تھی کہ ایک خاتون ہاکی کھلاڑی ایشپال بھوگال کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی شکایت سامنے آ گئی،اس پر پاکستان کیخلاف پہلے میچ سے قبل اہم پلیئر سردار سنگھ کو تفتیش کیلیے بلالیا گیا، پولیس اسٹیشن بھی یارکشائر میں تھا جہاں پہنچنے کے لیے انھیں 7گھنٹے سفر کرنا پڑا، باز پرس4گھنٹے تک جاری رہی،ایک پوزیشن میں بیٹھے رہنے سے سردار سنگھ کی فٹنس متاثر ہوئی،ٹیم کا مورال گرا اور توجہ منتشر ہوگئی۔

جس کے باعث ہالینڈ کے بعد لورینکنگ کی حامل ملائیشین اور کینیڈین ٹیموں کے ہاتھوں بھی شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، درخواست میں مزید لکھا گیا کہ اس خاتون نے ایک سال قبل پولیس کو سردار سنگھ کیخلاف اپنی شکایت درج کرائی تھی، اب پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ کے ایما پر اس کیس کو دانستہ دوبارہ اچھالا گیا تاکہ بھارتی ٹیم کی کارکردگی متاثر ہو،بھارتی آفیشل نے کہا کہ کسی بھی ٹور کرنے والی ٹیم کے کھلاڑی کو دوران ٹورنامنٹ تفتیش کیلیے نہیں بلایا جا سکتا،اس خاتون نے ایک درخواست 2015 میں لندن میں دی، پھر لیڈز میں ایسی ہی شکایت کردی۔

ایک جرم کی الگ الگ درخواست کس طرح دی جا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ ہاکی انڈیا نے جس میچ سے قبل نتائج متاثر کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا اس میں پاکستان کو 1-7سے شکست ہوئی تھی، دوسرے مقابلے میں بھی گرین شرٹس 1-6سے ناکام ہوئے تھے۔ ٹیم منیجر جگراج سنگھ کی رپورٹ کو بنیاد بناتے ہوئے فیڈریشن آف انٹرنیشنل ہاکی کے پاس باضابطہ شکایت جمع کرا دی گئی تھی، اس پر عالمی باڈی نے ایونٹ کے میزبان ملک انگلینڈ کو معاملے کی چھان بین کیلیے درخواست کردی ہے۔ ہاکی انڈیا کا موقف ہے کہ اہم کھلاڑیوں کو شرکت کے قابل نہ رہنے دینا یا تھکاوٹ کا شکار کرنا منظم سازش کا حصہ ہے،اس طرح کی حرکتوں سے کھیل کا حسن تباہ ہوگا۔

سردار سنگھ پر الزامات عائد کرنے والی خاتون خود بھی قومی سطح کی ہاکی پلیئر ہونے کا دعوی کرتی رہی ہے،اس لیے ان پر فکسنگ میں مدد دینے کے شکوک ظاہر کیے جانے کا جواز موجود ہے،ماضی میں ایشپال بھوگال نے سردار سنگھ کی منگیتر ہونے کے ساتھ بھارت اور انگلینڈ میں ہراساں کیے جانے کا الزام عائد کیا تو اسے فریقین کا آپس کا معاملہ سمجھتے رہے لیکن اب ہماری قومی ساکھ کو ہدف بنایا گیا ہے تو تحقیقات کی درخواست کررہے ہیں۔ایف آئی ایچ آفیشل کا کہنا ہے کہ بھارت کی شکایت پر سنجیدگی سے غور ہو رہا ہے، ہاکی انگلینڈ سے کہیں گے کہ مقامی قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی معاونت سے اس کیس کا جائزہ لیں،امید ہے کہ اس حوالے سے 2یا 3ماہ میں رپورٹ سامنے آجائے گی۔