کویت میں منشیات کا اسمگلرکبوترگرفتار

9
drugs

وہ زمانے گئے جب خلیل خاں فاختہ اُڑایا کرتے تھے اور کبوتروں سے صرف پیغام رسانی کا کام لیا جاتا تھا کیونکہ چند روز پہلے کویت کے کسٹم حکام نے ایک ایسا کبوتر’’گرفتار‘‘ کیا ہے جو منشیات کی ننھی ننھی گولیاں کویت سے عراق اسمگل کرنے کی کوشش کررہا تھا۔

کویتی اخبار کے مطابق اس کبوترکے جسم پر ایک تھیلی بندھی ہوئی تھی جس میں کسی نشہ آور مادّے کی 178 گولیاں بند تھیں البتہ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ منشیات کس قسم کی تھیں۔

یہ کبوتر عراقی سرحد کے نزدیک کویتی علاقے ’’عبدالی‘‘ میں محکمہ کسٹم کی عمارت کے قریب سے پکڑا گیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ اس کے جسم پر بندھی تھیلی میں سے ملنے والی منشیات کی گولیاں ایسی غیر قانونی دعوتوں میں استعمال کی جاتی ہیں جہاں شراب سے لے کر شباب تک ہر طرح کی ممنوعہ اور غیر اخلاقی چیز کی اجازت ہوتی ہے۔

کویتی کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پہلے سے یہ اطلاعات موجود تھیں کہ کبوتروں کے ذریعے سرحد پار منشیات اسمگل کی جارہی ہیں لیکن اس سلسلے میں انہیں یہ پہلی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم وہ اب تک بے زبان کبوتروں سے منشیات اسمگل کروانے والے گروہ تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔

کویت میں منشیات کے اسمگلر کبوتر کی گرفتاری کوئی پہلا واقعہ نہیں کیونکہ اس سے پہلے 2011 میں کولمبیا کی ایک جیل سے ’’منشیات بردار‘‘ کبوتر پکڑا گیا تھا جو زیادہ وزن کی وجہ سے جیل کی دیوار عبور کرنے میں ناکام رہا تھا۔ علاوہ ازیں 2015 میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہوچکا ہے جب کوسٹاریکا کی ایک جیل میں تعینات پولیس اہلکاروں نے بھنگ اور کوکین لے جانے والا ایک کبوتر گرفتار کرلیا تھا۔ البتہ منشیات کی سرحد پار اسمگلنگ کے حوالے سے یہ کسی کبوتر کی گرفتاری کی پہلی خبر ضرور ہے۔