حکومت کا جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

12

حکومت نے جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ آف شور کمپنی کا جواب سپریم کورٹ میں دیں گے اور دلیل کے ساتھ آئیں گے۔

اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت (ن) لیگ کے مشاورتی اجلاس کے بعد وزیرریلوے سعدرفیق اور بیرسٹرظفراللہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاناما کیس میں جے آئی ٹی رپورٹ حتمی نہیں اس کا فیصلہ آنا ابھی باقی ہے اور جے آئی ٹی رپورٹ میں بہت خامیاں ہیں جب کہ رپورٹ کے بعض کاغذات پر دستخط تک موجود نہیں جس کی نشاندہی سپریم کورٹ میں کریں گے۔

وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ آج صبح سے ایک مطالبہ شروع ہوگیا ہے حالانکہ کسی کمپنی میں وزیراعظم کا نام نہیں ہے،  مخالفین صبر سے کام لیں، ہم نے بھی دھرنا ون اور ٹو میں بہت صبر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پروفیشنل ہوں مجھے ٹیکس بچانے کی کوئی ضرورت نہیں، میں سپریم کورٹ میں ساری ٹریل پیش کروں گا اور اپنی ملکیت میں ایک ایک چیز کا حساب دوں گا ، سوئی سے مرسیڈیز تک سارا ریکارڈ دیا جائے گا جب کہ پاکستان میں بچوں کے کاروبار پرمیں نے پابندی لگائی کہ کوئی الزام نہ لگے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ میں خیرات کھانے والوں میں سے نہیں بلکہ دینے والوں میں سے ہوں جب کہ 2003 میں اپنے بچوں کو خود مختارکردیا تھا اور میرے بچوں نے جو قرض واپس کیا وہ بھی ریٹرنز میں موجود ہے، بچوں نے کمائی 4،3 اقساط میں بینکوں سے بھیجی۔ انہوں نے کہا کہ میرے بچوں کیلیے سوائے آبائی گھر کے کوئی چیز ان کی نہیں ہے جب کہ میں یہ تمام باتیں نہیں بتانا چاہتا تھا لیکن مجبورکردیا گیا کہ میں خیرات اورٹرسٹ سے متعلق باتیں بتاؤں جو کبھی نہیں بتائیں۔

وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم صاحب کی کوئی آف شور کمپنی نہیں ہے، جے آئی ٹی نے ایسی رپورٹ مرتب کی جو افسانے ہیں  اور تفتیش کا اصول ہے جو مواد آپ کے پاس ہو وہ سامنے رکھیں اور سوال کریں لیکن یہاں الٹ ہوا، جانبداری آپ کا کام نہیں تھا ، جو آپ نے کیا جب کہ سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ چیلنج کریں گے اور  آف شور کمپنی کا جواب ہم سپریم کورٹ میں دیں گے اور دلیل کے ساتھ آئیں گے۔

سعد رفیق نے کہا کہ عمران خان اخلاقیات کے مامے چاچے بنے ہوئے ہیں، وہ اتنے بڑے فنکار ہیں کہ وہ قابو نہیں آتے اور الیکشن کمیشن قومی ادارہ ہے آپ اسے گالیاں نکالتے ہیں جب کہ پیپلز پارٹی کو کرپشن پربات کرتے اپنی چارپائی کے نیچے دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن میں بغلیں بجانے اور ٹھمکے لگانے کی ضرورت نہیں جب کہ جے آئی ٹی نے جو کام 2 ماہ میں کیا اس کی تیاری ڈیڑھ سال کی لگتی ہے اور پاناما کی سازش کے ڈائریکٹر پاکستان سے باہر ہیں۔