صحرائے گوبی: پاکستان سے بڑا چٹانوں کا صحرا

9

صحرائے گوبی وسطی ایشیا میں واقع ہے۔ منگولیائی زبان میں گوبی کا مطلب ہے ’’بے آب جگہ‘‘۔ یہ صحرائی و نیم صحرائی علاقہ منگولیا اور چین کے بہت بڑے حصے پر پھیلا ہوا ہے۔ گوبی کا زیادہ تر حصہ ریت کے بجائے چٹانوں پر مشتمل ہے۔ اس حصے پر کار کی مدد سے کسی بھی سمت طویل ڈرائیو کرنا ممکن ہے۔ اگر شمال کی جانب جائیں تو الٹائی اور ہنگیان سلسلہ کوہ آتے ہیں، مشرق کی جانب ڈاہنگان سلسلہ کوہ آتا ہے، جنوب کا رخ کیاجائے تو بی ماؤنٹینز اور ہوانگ ہی کی وادی آتی ہے۔ مغرب کی جانب اس کی حدیں ایغور خودمختار علاقے سنکیانگ تک جاتی ہیں۔ صحرائے گوبی کا رقبہ 13 لاکھ مربع کلومیٹر ہے یعنی یہ پاکستان سے بڑا صحرا ہے۔ اس کے میدانوں میں پائی جانے والی چٹانیں اندازاً چھ کروڑ 60 لاکھ برس پرانی ہیں۔ صحرائے گوبی کے مرکز میں ’’میسوزویک دور‘‘ (تقریباً چھ کروڑ 60لاکھ سے25کروڑ 20لاکھ سال قبل) کے ڈائنوسارس کے فاسلز ملے ہیں۔ یہاں قدیم میملز کے فاسلز بھی ملے ہیں۔ یہاں ابتدائی اور اختتامی دور حجری کے انسانوں کے آثار ملے ہیں۔ 1990ء کی دہائی میں منگولیا میں ہونے والی ایک کھدائی میں35ہزار برس پرانے اوزار، زیوارت وغیرہ ملے۔ یہاں کے موسم میں سال بھر خاصی تبدیلی آتی ہے۔ سرما انتہائی سرد ہوتا ہے، بہار خشک اور سرد اور گرما گرم ہوتا ہے۔ جنوری میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 40 سینٹی گریڈ ہو سکتا ہے اور جولائی میں درجہ حرارت 45 سینٹی گریڈ سے زائد ہو سکتا ہے۔ بارش مختلف مقامات پر مختلف ہوتی ہے۔ یہ مغرب میں دوانچ (50 ملی میٹر) سے کم ہوسکتی ہے اور شمال مشرق میں آٹھ انچ سے زیادہ۔ خزاں، سرما اور بہار میں گوبی میں تیز ہوائیں چلتی ہیں۔ صحرا میں عام طور پر پودے بکھرے ہوئے ہیں اور سبزہ کم کم ہے۔ یہاں پر کچھ مفید جڑی بوٹیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ یہاں پر مختلف قسم کے جانور پائے جاتے ہیں جن میں جنگلی اونٹ جیسے بڑے جانور بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ غزال، چکارا اور مختلف رینگنے والے جانور ہیں۔ یہاں جنگلی گھوڑے کی ایک قسم بھی پائی جاتی تھی جسے Przhevalsky کہا جاتا ہے لیکن اب صحرا میں یہ ناپید ہو چکی ہے۔ یہاں ایک عجیب و غریب میمل پایا جاتا ہے جسے روڈنٹ کہتے ہیں۔ صحرا میں انسانی آبادی بہت کم ہے۔ اوسطاً یہاں ایک مربع کلومیٹر میں ایک فرد رہتا ہے۔ یہاں کی مقامی آبادی خانہ بدوش ہے اور مویشی پال کر گزارہ کرتی ہے۔ البتہ صحرا کے چینی علاقوں میں زراعت نے ترقی کی ہے۔ صحرائے گوبی کے جو علاقے نیم صحرائی ہیں ان میں مال مویشی بالخصوص بھیڑبکری پالنے کا کام مقامی معیشت کا اہم ستون ہے۔ اس کے بعد بڑے سینگ والی گائے کی اہمیت ہے۔ یہاں نقل و حمل کے لیے اونٹ بھی پالے جاتے ہیں۔ مال مویشی پالنے کا کام عموماً خانہ بدوشی کی حالت میں کیا جاتا ہے۔ صحرا میں نمک، کوئلہ، پیٹرولیم، تانبا اور دیگر معدنیات کے ذخائر موجود ہیں۔ قدیم شاہراہِ ریشم گوبی کے ایک حصے سے گزر کر جاتی تھی اس لیے تجارتی مقاصد کے لیے سفر کرنے والے ایشیائی اس صحرا سے واقف تھے، لیکن یورپیوں کو پہلی بار تیرہویں صدی میں مشہور سیاح مارکوپولو کے توسط سے معلوم ہوا۔ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں یورپیوں کی اس علاقے میں دلچسپی بڑھی۔ روسیوں اور برطانویوں نے اس کے جغرافیائی جائزے لیے ۔ اس کے بعد سوویت یونین گوبی کے جغرافیائی جائزے لیتا رہا۔ 1960ء کے بعد اس کام میں چینی اور منگولیائی سرگرمی سے حصہ لینے لگے۔ یہاں پر غاروں کے ساتھ موجود بدھ متوں کی عمارتیں سیاحوں کی خصوصی دلچسپی کا مرکز ہیں۔ یہ چین کے صوبہ گانسو میں واقع ہیں اور یونیسکو نے 1987ء میں انہیں عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا۔ بدھوں کے یہ ٹمپل چوتھی سے دسویں صدی عیسویں میں بنائے گئے۔ ان میں موجود مصوری اور تحریریں بہت حد تک محفوظ ہیں۔ صحرائے گوبی کا جو حصہ منگولیا میں ہے وہاں منگولیائی، روسی اور امریکی ماہرین آثارِ قدیمہ نے 1990ء دہائی میں پتھر کے زمانے کی انسانی غاروں کو تلاش کیا ۔