پاکستان کا ایٹم بم کن چار لوگوں کا کارنامہ تھا؟بعد ازاں ان محسنوں کا کیا حشر کیاگیا؟ہم کہیں احسان فراموش تو نہیں ہیں اور ہم کہیں احسان فراموشی کی سزا تو نہیں بھگت رہے؟ یوم تکبیر قوم کا اعزاز ہے‘ حکومت نے۔۔اسے ن لیگ کے کھاتے میں کیوں ڈال دیا؟جاوید چودھری کا تجزیہ

55

اہل پاکستان آج 28 مئی ہے‘ آج سے ٹھیک 21سال پہلے پاکستان دنیا کی ساتویں اور پہلی اسلامی نیو کلیئر پاور بنا‘ یہ ہماری 72 سال کی تاریخ کا سب سے بڑا کارنامہ تھا‘ یہ کارنامہ چار لوگوں نے سرانجام دیا تھا‘ ذوالفقار علی بھٹو‘ میاں نواز شریف‘ ڈاکٹر عبدالقدیر اور جنرل جہانگیر کرامت‘ یہ چاروں پاکستان کے محسن تھے اور۔۔ان چاروں نے پاکستان کے۔۔دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔۔لیکن ہم نے۔۔ان محسنوں کے ساتھ کیا کیا‘ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی‘ میاں نوازشریف جیل میں ہیں‘ڈاکٹر عبدالقدیر سے ٹیلی ویژن پر پوری دنیا کے سامنے معافی منگوائی

گئی اور جنرل جہانگیر کرامت سے زبردستی استعفیٰ لیا گیا جبکہ یوم تکبیر کو یوم تکبیر کا نام دینے والا (مجتبیٰ) رفیق آج بھی کسمپرسی میں زندگی گزار رہا ہے‘ یہ خود(کشی) تک پہنچ گیا ہے‘ ہمیں آج جشن ضرور منانا چاہیے۔۔لیکن ایک لمحے کیلئے جی ہاں صرف ایک لمحے کیلئے یہ بھی ضرور سوچنا چاہیے ہم کہیں احسان فراموش تو نہیں ہیں اور ہم کہیں احسان فراموشی کی سزا تو نہیں بھگت رہے‘ ہم آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں ”یوم تکبیرپر مریم نواز نے کہا کہ قوم کی زندگیوں میں کبھی کبھی ایسے لمحات آتے ہیں جب کوئی جراتمندانہ بروقت او ربہادر فیصلہ قوم کی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے تقدیر سنوار دیتا ہے۔ یہ جراتمندانہ فیصلہ کرنے والا کون تھا، بہادر لیڈر کون تھا جس نے 28مئی 1998ء کو چھ دھماکے کر کے پاکستان کے مستقبل، سلامتی اور دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔ آج ملک او ر قوم کا محسن، پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والا، دنیا کے نقشے پر پاکستا ن کو ایٹمی قوت کے طور پر متعارف کرانے والا کہاں بیٹھا ہے، آج وہ کھوٹ لکھپت جیل میں سلاخوں کے پیچھے ہے۔ ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے پر ذوالفقار علی بھٹو کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے مقابلے میں چھ دھماکے کرنے والا نواز شریف آج ستر سال کی عمر میں بیمار ہو کر جیل میں پڑا ہے،نوازشریف ملک و قوم کی خاطر جیل کے پیچھے ہے۔ نواز شریف کو دھماکے نہ کرنے کے لئےپانچ ارب ڈالر کی پیشکش ہوئی تھی،امریکی صدر کلنٹن نے پانچ ٹیلیفون کئے کہ دھماکے نہ کریں لیکن نواز شریف نے نہ امریکی صدر کی کالوں کی پرواہ کی اور نہ پانچ ارب ڈالر کو خاطر میں لایا او رعوام کی امنگوں کے مطابق جواب دیا۔انہوں نے کہا کہ آپ کہتے ہو میں فون کرتا ہوں مودی میرا فون نہیں سنتا لیکن نواز شریف نے تو کبھی ایسا گلہ نہیں کیا کہ میں فون کرتا ہوں تو وہ فون نہیں سنتا، تمہارا فون کیوں نہیں سنا جاتا،بیرون ممالک کے سربراہ کیوں تم سے بات نہیں کرتے، دنیا کیوں تمہیں نہیںبلاتی کیونکہ تم چور دروازے سے حکومت میں آئے ہو دنیا کی نظر میں تمہاری عزت نہیں۔تمہاری حیثیت ایک کٹھ پتلی او رمہرے کی ہے اور تم اشاروں کو دیکھتے ہو، تم ووٹ چوری کر کے اقتدار میں آئے اس لئے دنیا کا کوئی ملک تمہیں عزت دینے کو تیار نہیں۔تم کہتے ہو مودی میرا فون نہیں سن رہا تھا لیکن وہی مودی چل کر یہاں آیا تھا،واجپائی نے چل کر دھرتی پر قدم رکھا تھا۔ تم نے جب یہ کہا کہ مودی فون نہیں سن رہا تو ہم نے تمہیں مودی کا یار نہیں کہا،ہم پاکستانی ہیں اور چاہتے ہیں کہہمسایہ ممالک سے دوستی ہو او رجنگ نہ لڑی جائے ہمیں جنگیں عو ام کی خوشحالی اور بہتری کے لئے لڑنی چاہئیں، جنگ معاشی میدان میں لڑیں،ہم تمہیں مودی کا یار نہیں کہیں گے،ہم دنیا کا امن چاہتے ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ ہم 28مئی کو یوم تکبیر منا رہے ہیں لیکن ایٹمی قوت ہونے کے باوجود آج دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر کیوں مجبور ہیں؟۔ نالائق اعظم کشکول لے کر کیوں گھوم رہا ہے۔“ ”پاکستان مسلم لیگ (ن)کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ایٹمی پروگروام شروع کر نے والاپھانسی چڑھ گیا اورملک کو ایٹمی قوت بنانے والا جیل میں ہے۔منگل کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر خواجہ آصف نے کہا کہ 28 مئی یوم تکبیر ہے، آج ذوالفقار بھٹو کو یاد کرنے کا دن ہے،جس نے ایٹمی پروگرام شروع کیا وہ پھانسی چڑھ گیا،جس شخص نے ایٹمی قوت بنایا وہ آج جیل میں ہے۔انہوں نے کہاکہ آج پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بن چکا ہے،آج ذولفقار بھٹو اور نوازشریف کو یاد کرنے کا دن ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک منتخب وزیراعظم کوٹ لکھپت جیل میں ہے اور ایک پھانسی چڑھ گیا،یہ وقت ہے یہ ایوان جمہوریت اور سرحدوں کی حفاظت کریں۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہاکہ آج 28 مئی ہے، ہمیں آج کے دن ڈاکٹر قدیر خان کو نہیں بھولنا چاہیے جن کی وجہ سے پاکستان ایٹمی قوت بنا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی خطرات ہیں جن کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ خطرات کا مقابلہ صرف اس وقت ہوگا جب ہم لسانیت، قومیت سے بالاہوکر پاکستانی بن کر سوچیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اگر کوئی ذاتی کرپشن کی وجہجیل میں موجود ہے تو 28 مئی کو متنازعہ نہ بنائیں،وہ کرپشن کی وجہ سے آج جیل میں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 23 ہزار ارب روپے کا قرض بتایا جائے کیسے چڑھا؟۔انہوں نے کہاکہ آپ خود ڈاکٹر قدیر خان جیسے لوگوں کو بھول جاتے ہیں جب اقتدار میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 35 سال تک آپ ایک ایسا اسپتال نہیں بناسکے جہاں کم از کم سابق وزیراعظم کا علاج ہوسکے وہ لندن جانا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ جب ہم احتساب کی بات کرتے ہیں تو یہ شور شروع کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہاگر یہ سن سن کر تھک گئے ہیں تو ہم سہہ سہہ کر تھک چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آپ جتنا شور کرینگے، میں اتنا اچھے انداز میں بولوں گا، آرام سے سنیں۔ انہوں نے کہاکہ آپ عہد کریں لسانیت کی بجایے پاکستانیت پر چلائینگے تو پاکستان ترقی کرے گا۔“یوم تکبیر قوم کا اعزاز ہے‘ حکومت نے۔۔اسے ن لیگ کے کھاتے میں کیوں ڈال دیا‘ ہم قومی دنوں کو پارٹی سے بالاتر ہو کر کیوں نہیں مناتے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا جبکہ نیب نے کل حمزہ شہباز کو آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں طلب کر لیا جبکہ آصف علی زرداری اوربلاول بھٹو بھی کل احتساب عدالت میں پیش ہوں گے‘ یہ سلسلہ کب اور کہاں تک چلے گا‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔