بھارتی سپریم کورٹ نے جانوروں کے ذبیحہ پر حکومتی پابندی معطل کردی

14

بھارتی سپریم کورٹ نے جانوروں کے ذبیحہ پر عائد سرکاری پابندی کو معطل کردیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے ملک بھر میں ذبیحہ کے لیے مویشیوں کی خرید و فروخت پر عائد پابندی کے مجوزہ قانون کو معطل کرتے ہوئے مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ عدالت کے اس فیصلے سے بھارت میں قصابوں اور مویشی کے تاجروں کو سکھ کا سانس لینے کا موقع ملا ہے جن کا کاروبار سرکاری پابندیوں اور گاؤ رکھشکوں کے حملوں کے باعث ٹھپ ہوچکا ہے۔ عدالت نے کہا کہ حکومتی پابندی سے گوشت اور چمڑے کی صنعتوں کو نقصان پہنچے گا جس کے نتیجے میں بہت سے لوگوں کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا۔

مدراس ہائی کورٹ نے 30 مئی کو ذبیحہ پر پابندی کے حکومتی فیصلے کو چار ہفتوں کے لیے معطل کردیا تھا۔ بی جے پی سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے 23 مئی کو قانون بنایا تھا جس کے تحت ذبیحہ کے لیے مویشیوں بشمول گائے، بیل، بھینس اور اونٹ کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئے صرف زرعی مقاصد کے لیے تجارت کی اجازت دی تھی۔