27رمضان یوم قیام پاکستان ۔۔۔ (حافظ محمد احمدرضا)

35

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رشد وہدایت کے لئے انبیاء و رسل مبعوث فرمائے جنہوں نے توحید باری تعالیٰ کی تبلیغ فرمائی اور انسانیت کو صراط مستقیم پر چلنے کی دعوت دی۔ ہر دور میں بلا امتیاز وطن و نسل دو طبقات اہل ایمان اور اہل کفرموجود رہے۔اسلام میں قومیت کی تقسیم رنگ، نسل، زبان اور وطن کی غیر فطری حدود سے ماوراء ہو کر ایمان کی موجودگی پرہے۔ اسلام کا یہ دو قومی نظریہ بہت اہمیت کا حامل اورنظریہ پاکستان کی اساس (بنیاد) بھی ہے۔

غزنوی عہد حکومت میں صوفیائے کرام ہندوستان تشریف لائے۔ 1005ء میں بخارا سے حدیث اور تفسیر کے اولیں عالم شیخ محمد اسماعیل بخاری لاہور تشریف لائے جن کی کاوشوں سے 5لاکھ افراد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ حضرت سید علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ المعروف داتا گنج بخش ،سلطان محمود غزنوی کے بیٹے ناصر الدین کے دورحکومت 1030ء تا1040ء میں غزنی سے لاہور تشریف لائے۔آپ کی مساعی جمیلہ اور دعوت وتبلیغ کی بدولت لاہورکے گورنر رائے راجو سمیت بہت سے غیر مسلم اسلام کی دولت سے مالامال ہوئے۔اقبال نے کہا:’’درزمین ہند تخم سجدہ ریز‘‘یعنی علی ہجویری نے سرزمین ہندوستان میں سجدہ کا بیج بویا۔اسی طر ح خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ 586ھ میں دربار رسالت ﷺسے ملے حکم کی تعمیل میں ہندوستان تشریف لائے تو لاہور میں حضرت سید علی ہجویری داتاصاحب کے مزارسے فیض حاصل کرنے کے بعد تبلیغ دین کے لئے آپ نے اجمیر کا انتخاب فرمایا، آپ کی دعوت دین سے متاثر ہو کر لاکھوں افراد نے اسلام قبول کیا۔ مشہور انگریز مصنف آرنلڈ نے اپنی کتاب Preaching of Islamمیں لکھا کہ آپ کی دعوت سے 90لاکھ غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا۔ ہندوستان میں انگریز حکومت کے اوائل میں جب ضلعی گزٹئیر مرتب کیے گئے اور مختلف قبائل کے حالات کی تدوین کے ضمن میں یہ سوال سامنے آیا کہ یہ لوگ کب مسلمان ہوئے تو پہلی بار اس حقیقت کا انکشاف ہوا کہ ان تمام قبیلوں نے کسی نہ کسی ولی اللہ کے دست حق پر اسلام قبول کیا۔برصغیر میں مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد میں موجود گی صوفیاء و علماء کی بے لوث خدمت دین اور دعوت و تبلیغ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ہندوستان کی تاریخ میں مغلیہ عہد سلطنت کا کردار ناقابل فراموش ہے ۔مغلیہ سلطنت کے عروج میں جب اکبر بادشاہ نے ’’دین الٰہی‘‘ کے نام سے ایک ملغوبہ تیار کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے سلسلہ نقشبندیہ کے عظیم بزرگ حضرت شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کو شرف بخشا۔آپ نے جرأت و بے باکی سے حاکم وقت کے سامنے کلمہ حق بلند فرمایا۔آپ کے پیش نظر بھی دو قومی نظریہ ہی تھا جس کی بنیاد پر آپ نے بادشاہ کے دربار میں حق اور سچ کی صدا بلند کی۔ اگرچہ آپ کو قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں مگر فتح حق کی ہی ہوئی اور بادشاہ جہانگیر نے آپ کے دست حق پرست پر توبہ و بیعت کر لی۔علم حدیث کی ترویج و اشاعت میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور ان کے خاندان کی خدمات نمایاں ہیں۔آپ کے دور میں جبکہ مغلیہ سلطنت زوال و انحطاط کا شکار ہو چکی تھی اور مرہٹے ایک بڑی اسلام دشمن طاقت بن کر ابھر رہے تھے تو آپ نے احمد شاہ ابدالی کو خطوط ارسال فرمائے جن کے نتیجے میں اُس نے مرہٹوں پر حملے کرکے ان کی طاقت کو ختم کردیا۔گویا ہر دورمیں علمائے ملت اسلامیہ دو قومی نظریہ کے داعی رہے۔اور اس بات کا سبق دیتے رہے کہ مسلمانان عالم زندگی کے ہر شعبے میں اپنی جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں اور وہ علاقائی، نسلی اور لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر ایک ملت ہیں۔آخری مغل فرمانروابہادر شاہ ظفر کی گرفتاری کے بعد 1857ء کی جنگ آزادی میں مسلمانان ہند نے علماء کی زیر قیادت جہاد میں حصہ لیا۔ علماء کرام نے نہ صرف تحریری ، تقریری بلکہ’’نکل کر خانقاہوں سے اداکر رسم شبیری‘‘ کے جذبے سے سرشار عملی جہاد میں بھی بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ان میں سے اکثر شہادت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوئے اور باقی حضرات کو ان کے فتویٰ جہاد کی بنا پر قید وبند اورجلاوطنی کی مشکلات جھیلنا پڑیں۔ ان میں مولانا مفتی سید کفایت علی کافی، مولانا احمد اللہ مدراسی، مولانا فضل حق خیر آبادی، مولانا فضل امام خیر آبادی، مولانا عنایت علی چریاکوٹی، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سمیت دیگر سینکڑوں علماء شامل ہیں۔وقت گزرتا رہا حتیٰ کہ دو قومی نظریے کی بازگشت مسلمان لیڈروں کے توسط سے ارباب اختیار کے ایوانوں میں سنائی دی جانے لگی۔نواب وقار الملک، علامہ محمد اقبال، مولانا محمد علی جوہر ، چودھری رحمت علی،لیاقت علی اور قائد اعظم کی کوششیں رنگ لائیں اور مسلم لیگ پورے ہندوستان میں مسلمانوں کی واحد نمائندہ سیاسی طاقت کے طور پر متعارف ہوئی اور یہ نعرہ لگا’’مسلم ہے تو لیگ میں آ‘‘۔اس سارے منظر نامے میں ہم مشائخ عظام اور علمائے اسلام کے کردار کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور ایسا کرنا علمی بددیانتی کے مترادف ہوگا کیونکہ انہوں نے شب و روز انتھک محنت کر کے قیام پاکستان کے لئے رائے عامہ ہموار کی۔مشائخ عظام میں صدرالافاضل مولانا نعیم الدین مرادآبادی ، امیر ملت سید جماعت علی شاہ علی پوری،پیر صاحب آف مانکی شریف، پیر صاحب عبدالطیف زکوڑی شریف، پیر صاحب تونسہ شریف، خواجہ قمر الدین سیالوی، پیر صاحب گولڑہ شریف، پیر صاحب چورہ شریف،پیر صاحب شرقپورشریف،سید نور الحسن شاہ بخاری(کیلیانوالہ شریف) اور پیر صاحب بیربل شریف سر فہرست ہیں۔علمائے کرام میں شیخ القرآن مولانا عبد الغفور ہزاروی،مولانا عبد الحامد بدایونی، مولانا محمد یوسف سیالکوٹی،علامہ سید ابوالحسنات قادری،مولانا سید ابوالبرکات قادری، مولانا محمد بشیر کوٹلی لوہاراں،علامہ ضیاء الدین صدیقی (سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی)،مولانا محمد بخش مسلم(بی اے)، مولانا غلام الدین (انجن شیڈوالے)، مولانا غلام قادر اشرفی (لالہ موسیٰ)،مولوی بشیر احمد اخگر امرتسری،پروفیسر عنایت اللہ امرتسری، سید مصطفی شاہ گیلانی(راولپنڈی)، مفتی محمد برہان الحق جبل پوری(خلیفہ اعلیٰ حضرت امام احمدرضا اور مسلم لیگ جبل پور کے صدر)، مولانا مختار احمد صدیقی، مولانا نذیر احمد خجندی اور مولاناعبدالعلیم صدیقی کا شمارتحریک پاکستان کے صف اول کے لیڈروں میں ہوتا ہے۔مضمون کی طوالت کے پیش نظر حیران ہوں کہ تحریک پاکستان کے ان عظیم کرداروں میں سے کس کا تذکرہ کیا جائے، ہر فردہی اپنی ذات میں اک انجمن ہے۔صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی کی شب و روز کاوشوں اور قیام پاکستان کی خاطر بنائی جانے والی تنظیم آل انڈیا سنی کانفرنس(الجمعیۃ العالیۃ المرکزیہ)کا ذکر کیا جائے، شیخ القرآن مولاناعبد الغفور ہزاروی کی قرار دادپاکستان میں شرکت کا تذکرہ ، یا مولانا عبد الحامد بدایونی کی شعلہ نوائی کو خراج عقیدت پیش کیا جائے جنہوں نے سرحد کے غیور مسلمانوں میں قیام پاکستان کے لئے رائے عامہ ہموار کی۔

الغرض مسلمانان ہند کی شب وروز کی انتھک محنت رنگ لائی اور قرار داد پاکستان کے صرف 7سال بعد 3جون 1947ء کاتاریخی دن آپہنچا جب اس وقت کے وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن نے برصغیر کو تقسیم کر کے جلد از جلد ٹرانسفر آف پاور کاوعدہ اور اعلان کیا۔اس موقع پر کی گئی پریس کانفرنس میں ایک صحافی کے سوال کہ ٹرانسفر آف پاور کونسی تاریخ کو متوقع ہے؟ کے جواب میں جنگ عظیم دوم میں جاپانی افواج کے مقابل فاتح لارڈ مائنٹ بیٹن نے اپنا احساس تفاخر و برتری جتاتے ہوئے 14اگست کا اعلان کر دیا کیونکہ 14اگست 1945ء کو جاپان کی افواج نے اس کے سامنے شکست تسلیم کر کے جنگ بندی کااعلان کیا تھا۔لیکن خالق کائنات کو اپنی قدرت کا کرشمہ دکھانامقصود تھا۔14اور15اگست1947ء کی درمیانی شب نزول قرآن کی رات اور ہزار مہینوں سے افضل رات یعنی شب قدر تھی۔اس کے علاوہ یہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بھی تھی اور قیام پاکستان کے اعلان کادن جمعۃ الوداع تھا۔15اگست 1947ء بمطابق 27رمضان المبارک1366ھ صبح 8بجے ریڈیو پاکستان کی نشریات کا آغاز سورۃ آل عمران کی منتخب آیات سے کیا گیاجس کے بعد قائداعظم محمد علی جناح کا پیغام نشر کیا گیا۔قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح نے پہلی عید 18اگست1947ء کے موقع پر نماز عیدکراچی میں مولانا عبدالعلیم صدیقی (مولانا شاہ احمد نورانی کے والد )کی اقتداء میں ادا کی۔چونکہ 15اگست بھارت کا بھی یوم آزادی تھا لہٰذالیاقت علی خان کی کابینہ نے 14اگست کو سرکاری یوم آزادی قرار دینے کا فیصلہ کیا۔

وطن عزیز پاکستان کی لیلۃ القدر اور جمعۃ الوداع کی مناسبت سے ابتدا، کیا یہ محض ایک اتفاق ہے؟نہیں بلکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تحریک پاکستان میں شامل لاکھوں فرزندان اسلام سمیت علماء و مشائخ کی قربانیوں اور کوششوں کو شرف قبولیت بخشاجس کا ظہور اس طور ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ مملکت خداد پاکستان اپنی ابتداء سے ہی جن انتظامی، مالی اور دیگر مسائل کا سامنا کر رہا ہے اگرکوئی اور ملک ہوتا تو کب کا قصہ پارینہ بن چکا ہوتا۔آج ہمیں ضرورت اس امر کی ہے کہ رمضان المبارک میں ملنے والی اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کی قدر جانیں ۔اور قیام پاکستان کے حقیقی مقصد اسلامی فلاحی ریاست کی تشکیل میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔