خدائی ترجمان

60

تحریر: حافظ محمد احمدرضا

انسانی تاریخ میں کسی انسان کے اقوال کو نقل کرنے میں ا تنی ا حتیاط نہیں برتی گی جتنی احتیاط ر سول کریم ﷺکے ارشادات کے معا ملے میں نظرآئی۔اسں کی و جہ یہ ہے کہ کسی من گھڑت بات کو حدیث رسول ﷺ کہنے والے کے لیے جہنم کے عذاب کی وعید ہے۔اسں کے با و جو د اسماء ا لرجا ل کی کتب میں بعض و ضاع (من گھڑت بات کہنے والوں کا تذکرہ) بھی موجود ہیں۔یعنی ایسے افراد جن کے بارے میں تحقیق یہ بتاتی ہے کہ خود سے بات کرکے اُسے رسو ل کریم ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہونگے۔جو کہ انتہائی نا پسندیدہ فعل ہے۔
موبائل فون کے آنے سے ایک نئے رجحان نے جنم لیا ہے۔جب کسی smsکو مخصوص تعداد میں بھیجنے پر جنت کا ممژدہ سنایا جاتا ہے اور نہ بھیجنے والوں کو وعیدیں سنائی جاتی ہیں۔حالانکہوعدہ و وعید کا اختیار صرف ا للہ اور اس کے رسول ﷺکا ہے۔خود ساختہ کسی قول یا بیانیہ کو پھیلانے پر ایسے انعام و اکرام کا بیان کر ناکم علمی یا انجانے میں ان مقدس ہستیوں کے اختیار میں تصرف کرنا ہے۔ایسے ہی حضرت علی ؓ کی طرف منسوب ا قوال کی اشاعت کا سلسلہ چل نکلا جن کی تحقیق و تخریج دستیاب نہیں۔مو با ئلsmsرابطے کی مختلف appsاور سوشل میڈیاپر ہر جگہ حضرت علی ؓ کے ایسیاقوال بے باکی کے سا تھ شیئر کیے جاتے نظر آنے لگے۔حالا نکہ بحیثیت صحابیئ رسول ﷺ اور با ب العلم ہونے کے ناتے اُن کے اقوال کی اہمیت اس قدرزیادہ ہے کہ ا نہیں بھی بغیر حوالہ نقل نہ کیا جانا چاہیے لیکن اس قوم کا سادہ پن کا بھی تو کیا ہی کہیے۔
ہمارے ایک مہربان ظفر ا قبال کلیار صاحب عا لم دین ہیں،انتہائی منکسر المزاج ہیں۔انہیں کچھ عرصہ قبل کھیتوں میں کام کرتے ہوئے چند نوجوانوں نے آگھیرا جن کا تعلق تبلیغی جماعت سے تھا اور وہ اس سادہ بابے کو دین سکھانے آئے تھے۔کلیارصاحب اپنا کام چھوڑ کہ نہایت انہماک اور خلو ص سے ان کی باتیں سننے لگے۔آنے والے وفد کے امیر صاحب نے بات شروع کی اور کہا ا للہ تعالی قرآن پاک میں فرماتا ہے۔جس کے بعد جوبیان کیا وہ کسی حدیث مبا رک کا مفہو م تھا۔پھر کہا حضور ﷺیوں فرماتے ہیں اور جو بیان کیا وہ کسی قرآنی آیت کا ترجمہ تھا۔یعنی ان مبلغین اسلام کی اہلیت اس قدر بھی نہ تھی کہ وہ قرآن وحدیث میں فرق کرسکتے۔ استفسارپرپتہ چلاکہ نوجوانوں کی معیت میں یہ امیر صاحب ساتھ وا لے گاؤں سے دین سکھانے کی غرض سے یہاں تشریف لائے ہیں۔کلیار صاحب نے اپنا تعارف کرایااور نصیحت کی کہ امام غزالی کے بقول کم علم مبلغ شیطان سے زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے لہذا اگر آپ دین کی خدمت و تبلیغ کاجذبہ رکھتے ہیں تو ضروری ہے کہ کسی جید عالم دین سے پہلے خود تعلیم حاصل کریں۔پھر کسی صوفی باصفا سے تزکیہ و تصفیہ حاصل کریں اور اس کے بعد اس اہم ترین فریضہ کی بجا آوری کے لیے نکلیں۔
چند سالوں سے ہماری سوسائٹی میں ایک نیا رجحان نظر آرہا ہے۔ابن انشاء،واصف علی واصف،اشفاق احمد،قدسیہ بانواور ان جیسے تصوف پسند ادیبوں کے اقوال و اقتباس نقل کیے جارہے ہیں۔جن میں سے کئی اقتباس نہایت شاندار ہوتے ہیں۔لیکن اس سے ایک نئی صورتحال نے جنم لیا ہے۔ہمارے بعض کرم فرما بھی ان کی طرح دانا اور سیانا کہلانا چاہتے ہیں۔اسی بنا پر کسی نے اپنے اقوال و فرمودات شائع کرنا شروع کر دیے اور کسی نے تقریر کو مشق سخن بنا لیا۔انداز یہ رکھا کہ ہر جملے کے ساتھ ”یاد رکھیے!“ جیسے الفاط استعمال کر کے گو یا یہ تاثر دیا کہ اُن کا ہر جملہ قابل قدر اور قیمتی ہے۔یہ انداز بھی قابل قدر ہے کہ ہر شخص اپنے آپ کو ایسی عزت کہاں دے سکتا ہے۔
کبھی کبھی ہمارے ان دانا دوستوں کو خدائی ترجمان بننے کا بھی خیال آٹپکتاہے۔جس کا اظہاروہ اپنے الہام کو الفاظ کا پیراہن پہنا کرکرتے ہیں۔”خدا یہ چاہتاہے“،”خدافلاں صورت میں یہ کرتاہے“، ”خدا نے فلاں کے ساتھ ایسا اس لیے کیا“وغیرہ کے الفاظ جو یقینا بہت بھاری بھرکم ہیں ان کے ہاں عام استعمال کیے جاتے ہیں۔ہم بحیثیت عوام اُن کی اس خدا دانی پر انگشت بد نداں ہیں اور خوف کا یہ عالم ہے کہ پوچھنے سے بھی قاصر ہیں کہ اے میرے دانا دوست خدا کا یہ پیغام کس صورت آپ کے قلب پروارد ہوا۔