وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 2 ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ

6

حکومت نے وفاقی دارالحکومت میں 2 ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی جس کے تحت اسلام آباد میں ہر قسم کے جلسے جلوس ، ریلیوں اور اجتماع کے ساتھ ساتھ اسلحے کی نمائش پر بھی پابندی ہوگی۔

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد کیپٹن ریٹائرڈ مشتاق احمد کے دفتر سے جاری ہونے والے نوٹی فکیشن کے مطابق اسلام آباد میں دفعہ 144 کا نفاذ فوری طور پر ہوگا اور اس دوران آتش بازی اور لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال پر بھی پابندی ہوگی۔ اسلام آباد کے ریڈ زون میں بھی کسی بھی سیاسی اجتماع پر مکمل پابندی ہوگی اور پانچ یا پانچ سے زائد افراد ایک جگہ اکٹھے نہیں ہو سکیں گے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ بعض عناصر وفاقی دارالحکومت میں غیر قانونی اجتماعات، جلسے اور جلوسوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں جس سے سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ لہٰذا موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے اور امن عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے دفعہ 144 کا نفاذ ضروری ہوگیا ہے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 کا نفاذ ایک ایسے وقت میں عمل میں آیا ہے جب پاناما جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی ہے اور اس کیس کی مزید سماعت آئندہ پیر کو ہوگی۔ پاناما جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے وزیراعظم نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ کردیا ہے جب کہ حکمراں جماعت کا کہنا ہے کہ وزیراعظم استعفیٰ نہیں دیں گے۔