پاکستان آج اپنا اہم میچ نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گا

14

برمنگھم: گرین شرٹس کوسیمی فائنل تک رسائی کی راہ میں حائل 3 دیواروں میں سے پہلی گرانے کے لئے آج ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑے گا۔

ورلڈکپ مہم کے آغاز میں ویسٹ انڈین بولرز کے سامنے صرف 105رنز پر ڈھیر ہونے والی پاکستان ٹیم نے کم بیک کرتے ہوئے عالمی نمبر ون انگلینڈ کو زیر کیا، سری لنکا کیخلاف میچ بارش کی نذر ہونے پر دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ ملا،آسٹریلیا اور بھارت کے ہاتھوں شکستوں کے بعد گرین شرٹس کا میگا ایونٹ میں سفر تمام ہوتا نظر آرہا تھا، مگر ناقابل یقین کارکردگی دکھانے کیلیے مشہور ٹیم نے ایک بار پھر کم بیک کیا اور پروٹیز کو زیر کرتے ہوئے سیمی فائنل تک رسائی کی امیدیں برقرار رکھیں، پاکستان کو اب اگلے تینوں میچز جیتنے کے ساتھ دیگر مقابلوں کے نتائج اپنے حق میں ہونے کی دعا بھی کرنا ہے، ٹیم کو آج برمنگھم میں ایونٹ میں اب تک ناقابل شکست نیوزی لینڈ کا چیلنج درپیش ہوگا۔

کپتان سرفراز احمد کیلیے تشویش کی سب سے بڑی بات ناقص فیلڈنگ ہے، ابھی تک 14اور صرف جنوبی افریقہ کیخلاف میچ میں 6کیچز ڈراپ کرنے والے گرین شرٹس نے کیویز کو بھی اسی طرح کے مواقع دیے تو بولرز کیلیے رنز کا سیلاب روکنا مشکل ہوجائے گا۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم ابھی تک مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناقابل شکست رہی ہے، آسان فتوحات ہوں یا مشکل کین ولیمسن قیادت کا حق ادا کرتے ہوئے مشن مکمل کرنے کی ذمہ داری اٹھاتے رہے، روس ٹیلر کا بیٹ بھی چل رہا ہے، کولن ڈی گرینڈ ہوم نے ٹیم کی ضرورت کے مطابق ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے، جمی نیشم بھی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں، دونوں آل راؤنڈرز بولنگ سے بھی حریفوں کو پریشان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اوپنرز کولن منرو اور مارٹن گپٹل کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں، پاکستان ابتدائی وکٹیں جلد حاصل کرنے کا خواب دیکھ سکتا ہے لیکن اس کے بعد کین ولیمسن اور روس ٹیلر جیسی دیواریں بھی گرانا ہوں گی، ٹرینٹ بولٹ، لوکی فرگوسن اور میٹ ہینری کی برق رفتار بولنگ بھی گرین شرٹس کا حوصلہ آزمائے گی۔

میچ کے دوران بارش کی مداخلت کا امکان کم ہے، افق پر منڈلاتے بادل اور ہوائیں پیسرز کو سوئنگ کیلیے سازگار ماحول فراہم کریں گی، خاص طور پر محمد عامر اور ٹرینٹ بولٹ کو آئیڈیل کنڈیشز میسر آئیں گی، پاکستان کیخلاف سلواوور ریٹ ہوا توکیوی کپتان ولیمسن کو ایک میچ کی معطلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔