ہم پرایک پائی کی کرپشن کا داغ نہیں پھر کس چیز کا احتساب ہورہا ہے،وزیراعظم

11

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ ہم پر ایک پائی کی کرپشن کا داغ نہیں لیکن سمجھ نہیں آتا کہ کس منصوبے میں کرپشن ہوئی ہے جس کا آج احتساب ہورہا ہے۔

سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ سی پیک کو ناکام بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، حکومت کے پہلے 2 سال وسائل مہیاکرنے میں گزرگئے لیکن  اب ملک بھر میں موٹرویزتیزی سے بن رہی ہے، کے پی میں مخالف سیاسی جماعت کی حکومت ہے لیکن وہاں بھی ہزارہ موٹرویزہم بنارہے ہیں، ہر روز بجلی کے کارخانوں کا افتتاح ہورہا ہے اور ملک سے لوڈشیڈنگ ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ 2013 میں قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ پاکستان ایک ناکام ریاست اور مالی طور پر دیوالیہ ہونے والا ہے، جگہ جگہ احتجاج ہورہا تھا اور ملک بھر میں رشوت کا بازار گرم تھا جبکہ کرپشن کی ایک عجب کہانی روز آتی تھی۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہم پر ایک پائی کی کرپشن کا داغ نہیں لیکن سمجھ نہیں آتا کہ کب، کہاں اور کس منصوبے میں کرپشن ہوئی ہے جس کا آج احتساب ہورہا ہے مجھے اس کا جواب نہیں مل سکا، پتہ کرنا چاہیے کہ یہ کس چیز کا حساب ہورہا ہے، یہ سرکاری پیسوں میں خورد برد یا پھر ہمارے کاروباری معاملات کا احتساب ہورہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 44 سال سے ہمارے ساتھ احتساب کی بات کی جارہی ہے، مشرقی پاکستان میں جو ہمارا کارخانہ تھا وہ بنگلہ دیش کے ساتھ چلا گیا جب کہ بھٹو نے ہمارے مغربی پاکستان کے کارخانے کو قومیا لیا، بجائے اس کے کہ وہ حساب دیں حساب ہم سے مانگا جارہا ہے تاہم ہم سرخرو ہوں گے ۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2014 سے ہی ملک میں یہ تماشا لگا ہوا ہے، قوم بھی جانتی ہے کہ یہ تماشا لگانے والے کون لوگ ہیں، پہلے الیکشن میں دھاندلی، پھر دھرنے شروع کردیے گئے تاہم اس تمام دباؤ کے باوجود آج پاکستان میں بجلی کے کارخانے بھی لگ رہے ہیں اور دہشت گردی کی کمر بھی توڑ دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منفی سیاست کھیلنے والوں نے چاہا پاکستان ترقی نہ کرے لیکن آج پاکستان ترقی کی بلندیوں پر ہے اور اس بات کا اعتراف پوری دنیا کررہی ہے لیکن کیا ان لوگوں کا گریبان پکڑنے والا کوئی ہے، کوئی پوچھے ان سے کہ کیا یہ ملک کو بدحال کرنے کے لیے کررہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ 90 کی دہائی میں جن ملکوں کے برابر پاکستان تھا آج وہ ممالک کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جو ماضی میں کھویا ہے اسے واپس حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اگر اس کے لیے بھی ٹانگیں کھینچیں جائیں تو ملک کدھر جائے گا، جو مینا بازار ملک میں لگا ہوا ہے یہ پاکستان کو کس طرف لیکر جائے گا، پاکستانی قوم کو اس کا حساب مانگنا چاہیے اور مجھ سے استعفیٰ مانگنے والوں کو بار بار قوم نے ٹھکرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس سے پہلے 2،2 سال کے دور ملے، یہ پہلی بار 4 سال ملے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اب آگے کیا ہوتا ہے۔

وزیراعظم کاکہنا تھا کہ خنجراب سے گوادر تک کی سڑکیں بالکل تیار ہیں جب کہ ریلوے کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے، 30 سال سے نامکمل لواری ٹنل کا کل افتتاح کررہا ہوں لیکن کھلنڈرے لوگوں کو ملکی ترقی سے کیا لینا دینا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی راستے سے اقتدار نہ ملنے پر لوگ تماشا لگا کر بانسری بجارہے ہیں جب کہ ڈگڈگی بجانے والt ڈگڈگی بجاتے رہیں، سیاسی مخالفوں کے پلے کچھ نہیں۔