قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دے دی

12

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دے دی ہے اور فنانس بل 2019 کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ہے، اب بجٹ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ وزیراعظم کو بھیجے گی وزیراعظم منظوری کیلئے صدر کو بھیجیں گے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت ہوا جس میں فنانس بل 2019 منظوری کے لئے پیش کیا گیا، وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر نے فنانس بل 2019 منظوری کے لئے ایوان میں پیش کیا۔ قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ کی منظوری کے مرحلے کا آغاز ہوا، پہلے فنانس بل کوشق وار منظوری کے لئے زیرغور لانے کی تحریک منظور ہوئی، تحریک کی حمایت میں 176 اور مخالفت میں اپوزیشن نے 146 ووٹ دیے۔

حکومتی اتحادی بی این پی مینگل بھی فنانس بل کی حمایت میں پیش پیش رہے، اخترمینگل کے علاوہ دیگر تمام ارکان ووٹنگ کے لئے ایوان میں موجود رہے، گزشتہ روز اختر مینگل نے بھی گرانٹس کی منظوری کے موقع پر حمایت میں ووٹ دیا تھا۔

دوسری جانب اسپیکر نے وزیر مملکت خزانہ کی فنانس بل کی تحریک کو مکمل پڑھنے سے روکتے ہوئے کہا کہ تحریک کو پڑھا ہوا سمجھا جائے جس پر اپوزیشن ارکان نے اعتراض اٹھایا، شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر پڑھا ہوا سمجھا جانا ہے تو پورا فنانس بل پڑھا ہوا ہے، اگر ایسا ہے تو پھر میری ترمیم کو بھی پڑھا ہوا تصور کرلیں۔ نفیسہ شاہ نے کہا کہ آپ ایوان کی روایات کا خیال رکھیں، اس طرح سے ایوان نہ چلائیں جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ آپ مجھے رولز بتادیں اور بعد ازاں انہوں نے ماضی کی مثال دی جس کے بعد اپوزیشن نے تکرار ترک کردی۔

اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دے دی اور قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا، قومی اسمبلی کل جاری مالی سال کی ضمنی گرانٹس کی منظوری دے گی اور ضمنی گرانٹس کی منظوری کے ساتھ کل قومی اسمبلی بجٹ اجلاس اختتام پذیر ہو جائے گا۔