ججزریفرنس کی کل سماعت، وکلا برادری کا یوم سیاہ

27

کوئٹہ / اسلام آباد / کراچی: ججزریفرنس کی کل سماعت پروکلا برادری نے یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔

سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وکلا برادری حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے 2 ججز جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف بدنیتی کی بنیاد پر دائر ریفرنسزکی سماعت کے موقع پر آج ملک بھر کی بارز کے عہدے داروں سے یوم سیاہ منانے، بازو پر سیاہ پٹی باندھنے اور باررومز پر سیاہ جھنڈے لہرانے کی درخواست کی گئی ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کے موقع پر عدلیہ سے اظہار یکجہتی کیلیے اسلام آباد سپریم کورٹ بلڈنگ میں 2 جولائی کو صبح 11 بجے پہنچ کر کونسل کی کارروائی تک موجود رہیں جس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کے حتمی فیصلے کی روشنی میں ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

ایک بیان میں انھوں نے کہاہے کہ سپریم کورٹ، سندھ اور بلوچستان کی عدالتوں میں گرمیوں کی تعطیلات کے باعث عدالتی بائیکاٹ یا ہڑتال کی کوئی اپیل نہیں کی گئی البتہ پنجاب سمیت کہیں اگر گرمیوں کی تعطیلات نہ ہوں تو وہاں کی صوبائی بارکونسل اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز اپنے حالات کے مطابق متفقہ فیصلہ کرسکتی ہیں تاکہ وکلا اداروں کے تضادات سے مخالفین کو فائدہ اور بعض لوگ ہمارے اصولی موقف کے خلاف سمجھوتہ کرکے منافع بخش دھندے اور اپنی ترقی کا ذریعہ نہ بنائیں۔ دوسری جانب پاکستان بار کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنس کے تناظر میںکل(منگل 2 جولائی کو) ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ اتوار کو پی بی سی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق منگل کے روز ہی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے جس میں احتجاج سے متعلق آئندہ حکمت عملی پر غور ہو گا۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان بارکونسل کے وائس چیئر مین امجد شاہ نے کہاکہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے معاملے پر وکلا میں کوئی اختلاف نہیں، دونوں بڑے وکلا گروپ متحد ہیں، وفاقی حکومت جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے معاملے پر رویہ ٹھیک کرے، وفاقی وزیر قانون اور اٹارنی جنرل سے درخواست ہے کہ ذاتی مقاصد کیلیے عہدے کا استعمال نہ کریں، اس موقع پر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ و دیگر وکلا بھی موجود تھے۔
انھوں نے کہاکہ اٹارنی جنرل کے پاس اختیار نہیں کہ وہ فروغ نسیم کو بھیجے گئے نوٹس کو معطل کریں، جمہوری اداروں کے ساتھ قانونی خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں، فروغ نسیم کو پریکٹس کرنے پر نوٹس دیا گیا مگر وہ پیش نہیں ہوئے ، قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس اجلاس کا اہم ایجنڈا تھا، 2جولائی کو سپریم کورٹ سمیت ملک بھر میں ہڑتال اور احتجاج کیا جائے گا، بلوچستان کے ساتھ وفاق کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ایسا نہ ہوکہ ہم خود سپریم کورٹ جانے سے انکار کردیں۔ فروغ نسیم وزیر ہونے کے بعد پریکٹس نہیں کرسکتے، وہ دو کشتیوں کی سواری کرنا چاہتے ہیں جو قبول نہیں، ملک کو1973کے آئین کے تحت چلایا جائے، صدر اور وفاقی حکومت کوسوچنا چاہیے کہ ملک میں ایسی کیفیت پیدا نہ کریں جس سے جمہوریت کو خطرہ اور اداروں کے درمیان ٹکرائو ہو، جمہوریت کو کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیںگے۔ کراچی بار ایسوسی ایشن کے ترجمان اسلم خٹک ایڈووکیٹ نیایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ کراچی بار متفقہ طور پر سپریم کورٹ اور پاکستان بار کی مشترکہ طور پر اعلان کردہ کل (منگل 2 جولائی) ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے اور 2 جولائی کو عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔