بے نامی اکاؤنٹس، اثاثوں کی تفتیش کے لیے اتھارٹی تشکیل

16

کراچی:  ملک میں بینک کھاتوں سے لاعلم اور کھاتے آپریٹ کرنے کی سکت نہ رکھنے والوں کے نام پر بے نامی بینک اکاؤنٹس کھولے جانے اوران کھاتوں سے وسیع پیمانے پر ٹرانزیکشنزاورمنی لانڈرنگ کے انکشاف پر وفاقی حکومت نے بے نامی اکاوئنٹس،جائیدادوں اوراثاثوں کی تفتیش کیلیے بے نامی اکاؤنٹس تحقیق اتھارٹی تشکیل دیدی ہے۔

گریڈ 20کے رٹائرڈ افسر جمیل احمدکواتھارٹی کا چیئرپرسن، گریڈ21 کے افسر تنویراختراورخاقان مرتضیٰ کی بحیثیت رکن تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ایف بی آر نے بے نامی جائیدادوں کی تحقیق کے لیے ملک گیرسطح پر بے نامی زونز قائم کردیے ہیں جس میں ایف بی آر کے سینیئر افسران کوتعینات کیاگیاہے۔

بے نامی زونز کے افسران بے نامی جائیدادوں کے حوالے سے یہ تحقیق کریں گے کہ کیس درست معلومات پر مشتمل ہے جس کے بعد بے نامی اکاونٹس اور اثاثوں کے بارے میں ایف بی آر کے متعلقہ افسران کیس بنا کر اتھارٹی کو پیش کریں گے۔

تشکیل دی گئی اتھارٹی بے نامی اکاؤنٹس کے معاملے پر تحقیقات کرکے رپورٹ وفاقی حکومت کو پیش کرے گی،اتھارٹی ان رپورٹس کے حوالے سے مزید تحقیق کے بعد حتمی رپورٹ مرتب کرے گی۔ بے نامی اکاؤنٹس کے بارے میں ایف بی آر کی مذکورہ اتھارٹی فیصلہ کرے گی۔