چین کے ایک گائوں کی کہانی

17

یہاں سب سوچتے ہیں ، میں اکیلاکیا کر سکتا ہوں؟میں نے یہاں اتنی مایوسی پہلے کبھی نہیں دیکھی جتنی آج لوگوں کے ذہنو ں میں ہے۔ چینی اگر یہی سوچتے تو آج نشے میں دھت کہیں پڑے ہوتے،لیکن انہوں نے سوچا کہ’’ ایک ایک چینی کیا نہیں کر سکتا‘‘۔۔اسی لئے آج دنیا کا سب سے بڑا سچ یہی ہے کہ چینی سب کچھ کر سکتے ہیں۔ آج ہم آپ کو چین کے ایک پسماندہ گائوں میں رہنے والے غریب ترین آدمی مائو کی کہانی سناتے ہیں۔ایک آدمی کیا کچھ کر سکتاہے؟ یہ ایک کم پڑھے لکھے ، پسماندہ گائوں کے چینی مائو نے ثابت کر دیا۔ 1987ء کا واقعہ ہے ۔مائو کے گھر میں کھانے کو روٹی اور پینے کو پانی نہ تھا، بچوں کی فیس کے پیسے تھے نہ علاج کا خرچہ ۔کوئی بیمار ہو جاتا تو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔معمولی پیداواری صلاحیت کی زمین تو تھی مگر بیج اور کھاد کے لیے پیسے نہ تھے۔ ایسے میں مائو نے سوچا کہ ہم کیا کرسکتے ہیں ، اپنے آپ کوپستی سے کیسے نکالیں۔ اس نے اپنی تھوڑی سی زمین کا سینہ چیرنا شروع کیا ، گنے اور کساوا کا بیج ڈالا۔دن رات محنت کرتا۔اسی زمین سے دگنی پیداوار حاصل کرنا اس کا مقصد تھا۔ محنت رنگ لائی چند مہینوں میں بھرپور فصل تیار تھی۔جس سے اس کے گھر میں خوشحالی آگئی ۔اہل دیہہ پہلے کی طرح غریب تھے ۔مگر وہ سب کو ساتھ لے کر چلا ،اگلی بارمحنت کا گر اس نے سب کو بتایا۔اس کی کوششوں سے گائوں کے 83گھرانوں کا مستقبل روشن ہوگیا۔ چند سال بعد اس نے زیادہ پیسے کمانے کا سوچا۔ دماغ لڑایا تو اسے پتہ چلا کہ یہ مٹی آموں کے لیے بہترین ہے۔اس نے سوچا کہ’’ ہماری مٹی ملتانی مٹی جیسی ہے، کیوں نہ میں یہاں بہترین آم کے باغات لگائوں جس کی دنیا بھر میں مانگ ہو۔ اس سے زیادہ پیسے مل جائیں گے اور زندگی بھر ملتے رہیں گے‘‘۔ مگر اس کے پاس بیج کے پیسے تھے نہ کھادکے، درخت کیسے لگاتا۔چنانچہ اس نے قریبی قصبے کا رخ کیا۔ وہاں منڈیوں میں گرے پڑے آموں کو تھیلے میں ڈال کراپنے گائوں لے آیا۔اس نے گلے سڑے آموں کو بطور بیج استعمال کر کے فصل اگا دی۔ اسے بیج مل چکا تھا مگر اب کھاددرکار تھی۔اسی قصبے سے اس نے گوبر اکٹھا کیا ۔ اسے پتہ تھا کہ گوبر سے بہترین کھاد بن سکتی ہے۔ انسان محنت کرے تو خدابھی مددکرتا ہے۔ چند ہی سالوں میں گائوں میں آم کی بہترین فصل تیار تھی۔کاشتکاروں کااستحصال کرنے کے لئے کوئی مافیا بیچ میں نہیں آیاجیسا یہاں ہوتا ہے۔وہاں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ مدد کو آئی اور اس نے یہ فصل اچھی قیمت پر خرید لی۔ آموں سے علاقے میں خوشحالی آنے لگی جس سے 28سال میں اس گائوں کی شکل ہی بدل گئی ۔یہ خوشحال گائوں چین کے علاوہ ہم سب کے لیے ایک مثال ہے۔ انسان اگر چاہے تو اپنی قسمت بھی بدل سکتا ہے اور اپنے ساتھ سینکڑوں لوگوں کو بھی راستہ دکھا سکتا ہے ضرورت صرف ہمت کرنے کی ہے۔