مل جل کر کام کرنے والے، چیونٹیوں جیسے روبوٹ

55

لوزانے/سوئٹزرلینڈ: سوئٹزرلینڈ کے ماہرین نے ایسے ننھے ننھے روبوٹ تیار کرلیے ہیں جو چیونٹیوں کی مانند آپس میں مل جل کر خودکار طور پر کام کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ماہرین کو امید ہے کہ ان چیونٹی نما روبوٹس کو مستقبل میں مختلف الاقسام امدادی کارروائیوں میں اس طرح استعمال کیا جاسکے گا کہ انہیں کسی قسم کی انسانی مداخلت یا جی پی ایس وغیرہ جیسے نظاموں سے مدد لینے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔

انگریزی حرف T جیسی شکل والے ان چھوٹے چھوٹے روبوٹس کو ’’ٹرائی بوٹس‘‘ کا نام دیا گیا ہے جن میں سے ہر ایک صرف دس گرام وزنی ہے۔ ہر ٹرائی بوٹ مختلف طریقوں سے حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کا فیصلہ یہ اپنے ارد گرد کا ماحول دیکھ کر کرتا ہے۔

ٹرائی بوٹس کو چیونٹیوں سے اس لیے تشبیہ دی جارہی ہے کہ اگرچہ ہر چیونٹی انفرادی طور پر بہت زیادہ ذہین اور طاقتور تو نہیں ہوتی، لیکن جب بہت ساری چیونٹیاں ایک کالونی کی شکل میں ہوں تو وہ پیچیدہ قسم کی منصوبہ بندی کرنے کے علاوہ گنجلک کام سرانجام کرنے تک کے قابل ہوتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنی اجتماعی ذہانت سے ایک بڑے دشمن کو بھی شکست دے سکتی ہیں۔ ٹرائی بوٹس میں بھی یہی خاصیت رکھی گئی ہے۔

یہ ننھے ننھے روبوٹس کسی بھی قسم کی سطح پر بہ آسانی حرکت کرسکتے ہیں اور آگے بڑھ سکتے ہیں۔ انفرادی طور پر ان کا ڈیزائن بہت سادہ ہے لیکن جب ایسے درجنوں ٹرائی بوٹس اکٹھے ہوجائیں تو وہ باہمی رابطہ رکھتے ہوئے نہ صرف راستے کی رکاوٹوں کا پتا چلا سکتے ہیں بلکہ، مل جل کر، انہیں عبور بھی کرسکتے ہیں۔ اسی پر بس نہیں، بلکہ ٹرائی بوٹس ’’اشتراکِ باہمی‘‘ سے استفادہ کرتے ہوئے ان چیزوں کو بھی حرکت دے سکتے ہیں جو ان سے کہیں زیادہ وزنی ہوں۔

ٹرائی بوٹس کا ڈیزائن بہت سادہ اور جسامت بہت کم ہے۔ اسی لیے کم خرچ اور کم وقت میں ان کی بڑی تعداد تیار کی جاسکتی ہے۔ یعنی اگر ان روبوٹس کو بڑی تعداد میں کسی امدادی مشن پر بھیجا جائے اور کارروائی کے دوران کچھ ٹرائی بوٹس تباہ ہوجائیں، تب بھی یہ قیمتی انسانی بچانے کے مقابلے میں گھاٹے کا سودا ہر گز نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ روبوٹس اور مشینوں میں چیونٹیوں جیسی ذہانت پیدا کرنے کی کوششیں کم از کم پچھلے بیس سال سے جاری ہیں۔ ان ہی کوششوں کے نتیجے میں مصنوعی ذہانت کا ایک نیا ذیلی شعبہ ’’سوارم انٹیلی جنس‘‘ بھی وجود میں آچکا ہے جو حملہ آور ڈرونز کے جتھوں سے لے کر امدادی روبوٹس تک کو آپس میں مربوط و منظم رکھنے میں بہت کارآمد ثابت ہورہا ہے۔

اس ایجاد کی تفصیلات ہفت روزہ تحقیقی جریدے ’’نیچر‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔