عمران خان کی سپریم کورٹ سے پاناما کیس کا فیصلہ جلد سنانے کی درخواست

7

چیرمین تحریک انصاف عمران خان نے سپریم کورٹ سے پاناما کیس کا فیصلہ جلد سنانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ  پوری قوم عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا انتظار کررہی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے چیرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ پوری قوم کو پاناما کیس کے فیصلے کا انتظار ہے لہذا سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ کیس کا فیصلہ جلد سنایا جائے تاکہ قوم آگے بڑھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں حالات بگڑ رہے ہیں، معیشت تباہ ہوگئی ہے لیکن ساری حکومت وزیراعظم کی کرپشن بچانے میں مصروف ہے لیکن 4 میں سے 2 صوبے اور وکلا وزیراعظم سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں جب کہ لاہور کا اتنا بڑا حادثہ ہوا وزیراعظم مالدیپ چلے گئے حالانکہ ملک کو اس وقت چیف ایگزیکٹو کی ضرورت ہے اور وہ ملک میں موجود ہی نہیں ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے ابھی تک ایک بینکنگ ٹرانزیکشن نہیں دی اور جو دستاویزات دیں وہ فراڈ نکلیں، یہ لوگ بجائے اپنی صفائی پیش کرنے کے کہہ رہے ہیں کہ ملک میں باقی بھی سب کرپٹ ہیں جب کہ لوگوں کو خریدنے کیلیے پیسا استعمال ہورہا ہے، یہ قوم کو پاگل سمجھتے ہیں اور 30 سال سے بیوقوف بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کے دبئی میں ڈیڑھ ڈیڑھ ارب روپے کے گھر ہیں اور ان کے وزیر اقامے لیے پھر تے ہیں، یہ سارے قوم کے مجرم ہیں اور واقعی گاڈ فادر ہیں جب کہ کسی جمہوریت میں کبھی نہیں ہواہوگا کہ کسی ملک کا وزیراعظم اقامہ لیکردوسرے ملک کا سیلز منیجربنا ہو۔

چیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ فلیٹ لینے کی منی ٹریل جو ناممکن تھی وہ بھی عدالت میں دکھادی جب کہ ایک کھلاڑی 60 لاکھ روپے کا فلیٹ لیتا ہے اور اس کا مقابلہ چوری کے پیسا باہر بھیجنے والے سے کرایا جارہا ہے، میرے باہر کمائے پیسے پر ٹیکس وہاں لگنا تھا مگر برطانیہ نے اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جب کہ میں اگر نااہل ہوا تو یہ بہت چھوٹی قیمت ہوگی۔  انہوں نے کہا کہ اس وقت خورشید شاہ اور پیپلزپارٹی اچھا کام کررہے ہیں کیوں کہ پیپلزپارٹی فرینڈلی اپوزیشن کی راہ سے ہٹ گئی ہے۔

عمران خان نے ایک بار پھر جنگ اور جیو کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میر شکیل الرحمان اپنے میڈیا گروپ کو کرپٹ مافیا کو بچانے کے لیے استعمال کررہے ہیں اور جو خاندان 30 سالوں سے قوم کا پیسہ لوٹ رہا ہے یہ ان سے پیسے لے کر انہیں تحفظ فراہم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کا کام کسی کو بچانا نہیں ہے جب کہ حق وسچ کے ساتھ کھڑے صحافیوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔