برطانیہ و آسٹریلیا کا شمالی کوریا کے معاملے پر چین سے ڈومور کا مطالبہ

4

برطانیہ اور آسٹریلیا نے چین سے شمالی کوریا کے خلاف ڈو مور کا مطالبہ کیا ہے۔

سڈنی میں آسٹریلوی وزیر دفاع ماریسی پائن، برطانوی وزیر دفاع مائیکل فیلن، برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن اور آسٹریلوی وزیر خارجہ جولی بشپ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آسٹریلوی وزیر خارجہ جولی بشپ نے چین پر زور دیا کہ شمالی کوریا کے ایٹمی و میزائل پروگرام کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں۔

جولی بشپ نے کہا کہ چین شمالی کوریا کا سب سے بڑا مالی مددگار ہے اور اسے شمالی کوریا پر اس سے کہیں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہے جتنا وہ بتاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کی اشیا کی برآمد، ملازمین کو ترسیلات زر کی ادائیگی، غیرملکی سرمایہ کاری کا بہاؤ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، یہ سب کچھ چین کے ہاتھ میں ہے۔

برطانوی وزیر دفاع مائیکل فیلن نے کہا کہ جب کسی کو بین الاقوامی اثر و رسوخ اور طاقت حاصل ہو تو اس پر ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے، لہذا چین کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے دوست ملک شمالی کوریا پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے اسے ایٹمی پروگرام بند کرنے پر قائل کرے، شمالی کوریا کو اپنا ایٹمی و میزائل پروگرام جاری رکھنے کے لیے مسلسل مدد مل رہی ہے اور اس کے خلاف عالمی پابندیوں کا موثر نفاذ نہیں ہورہا۔

یاد رہے کہ شمالی کوریا نے آسٹریلیا کو بھی میزائل حملے کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے اور اس نے رواں ماہ کے شروع میں اپنے پہلے بین البراعظمی میزائل کا تجربہ کیا جس کی رینج امریکا تک ہے۔ امریکا و دیگر ممالک چین سے شمالی کوریا کو قابو کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تاہم چین کا کہنا ہے کہ اس کام کی ساری ذمہ داری صرف اس پر ہی عائد نہ کی جائے جب کہ ایٹمی پروگرام کی پاداش میں شمالی کوریا پر 2006 سے اقوام متحدہ کی پابندیاں عائد ہیں۔