بچے کا پہلا سال

12

ایک زمانہ ایسا تھا کہ لوگ بچے کی عمر کے پہلے سال کو تعلیم کے دائرے سے خارج سمجھتے تھے۔ جب تک بچہ کم از کم بولنا شروع نہ کرتا۔ اسے صرف ماں یا دایہ کی زیر نگرانی رکھا جاتا تھا۔ اور یہ فرض کر لیا جاتا تھا کہ وہ فطرتاً ہی بچے کے نیک وبد کو ایسی اچھی طرح سمجھتی ہیں کہ انہیں سکھانے کی ضرورت نہیں لیکن فی الحقیقت لوگوں کا یہ خیال غلط تھا۔ اکثر بچے سال بھر کے بھی نہ ہونے پاتے کہ مر جاتے اورجو زندہ رہتے ان میں سے کئی ایک کی صحت ہمیشہ کے لئے خراب ہو جاتی۔ غلط تربیت کی وجہ سے خطرناک ذہنی عادات کی بنیاد پہلے ہی پڑ جاتی۔ یہ حقیقت ہمیں حال ہی میں معلوم ہوئی ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ اکثر لوگ شیر خوار بچوں کی پرورش کے معاملے میں سائنس کا دخل پسند نہیں کرتے۔ کیونکہ اس سے ماں کی مامتا اور بچے کے لاڈلے پن کا جو دل آویز تصور ان کے ذہن میں موجود ہے اسے صدمہ پہنچتا ہے لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ اندھا دھند محبت اور لاڈ پیار اور چیزیں ہیں۔ اصل محبت اور چیز ہے۔ جن والدین کو اپنے بچوں سے سچی اور اصلی محبت ہے وہ ان کی تربیت کے لئے سائنس کے اصولوں پر عمل کرنے سے نہیں گھبراتے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ضرر رساں قسم کی محبت ان ہی لوگوں میں سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ جن کے کوئی اولاد نہیں ہوتی۔ یا جو (روسو کی مانند) اپنے بچوں کو کسی یتیم خانہ کے حوالے کر دینا چاہتے ہیں۔ اکثر تعلیم یافتہ والدین سائنس کی معلومات سے متنفر ہونے کی بجائے استفادہ کرتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ ان پڑھ لوگوں میں بھی سائنس کا چرچا روزبروز بڑھتا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بچوں کی اموات روز بروز کم ہوتی جاتی ہیں، اگر لوگ پوری احتیاط سے کام لیں تو نہ صرف اموات کی تعداد اور بھی کم ہو جائے گی بلکہ جو بچے زندہ رہیں گے ان کی دماغی اور جسمانی حالت بہتر ہو گی۔ جسمانی صحت کے ماہر ڈاکٹر لوگ ہیں وہی ان مسائل کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ یہ مسائل اس تحریر کے دائرے سے خارج ہیں لیکن ہم یہاں جسمانی صحت کے مسائل پر اسی حد تک بحث کریں گے جس حد تک اس کا تعلق ذہنی یا نفسیاتی زندگی سے ہے۔ اور ان پر اس وقت بحث کرنا یوں ضروری ہے کہ اول تو عمر کے پہلے سال میں جسمانی زندگی اور ذہنی زندگی میں تمیز کرنا مشکل ہوتا ہے دوسرے اگر شروع میں بچے کے جسم کا کماحقہ خیال نہ رکھا جائے تو چند ایسے نقائص کے پیدا ہونے کا احتمال رہتا ہے جو بڑے ہو کر تعلیم کے راستے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ اس لئے ہر چند کہ جسمانی صحت پر بحث کرنا ڈاکٹروں ہی کا حصہ ہے تاہم اس موقعے پر ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کے متعلق کچھ عرض کریں۔ نوزائیدہ بچہ کسی چیز کا عادی نہیں ہوتا۔ اس کی تمام حرکات کسی عادت کی وجہ سے نہیں بلکہ اضطراراً سرزد ہوتی ہیں اگر ماں کے پیٹ میں اس نے بعض عادتیں اختیار کر لیں ہیں تو وہ کم از کم ایسی نہیں کہ پیدا ہونے کے بعد بھی اس کے کام آ سکیں۔ یہاں تک کہ سانس لینا بھی اسے پیدائش کے بعد سیکھنا پڑتا ہے۔ اور بعض بچے تو مر ہی اسی لئے جاتے ہیں کہ تنفس کا عمل دیر میں سیکھتے ہیں۔ ایک زبردست خواہش بچہ فطرت کی طرف سے اپنے ساتھ لاتا ہے اور وہ چوسنے کی خواہش ہے جب تک بچہ اس عمل میں مصروف رہے بہت خوش رہتا ہے۔ باقی تمام وقت وہ ایک تحیر کے عالم میں گزارتا ہے جس سے یوں نجات حاصل ہوتی ہے کہ دن اور رات کا بیشتر حصہ نیند میں گزرجاتا ہے۔ پندرہ دن کے بعد یہ حالت بدل جاتی ہے۔ اور بعض باتیں (مثلاً دودھ پینا وغیرہ) تواتر کے ساتھ ظہور میں آنے لگتی ہیں۔ اس لئے بچہ ان باتوں کا متوقع رہتا ہے یعنی یوں کہئے کہ اب وہ بعض چیزوں کا عادی ہو جاتا ہے اور جن باتوں کا عادی ہو انہیں کو پسند کرتا ہے گویا قدامت پسند بن جاتا ہے۔ اور قدامت پسند بھی ایسا کہ اغلباً پھر عمر بھر ایسا نہیں ہوتا۔ ہر نئی چیز اسے ناپسند ہوتی ہے اگر بچہ اس عمر میں بولنے کے قابل ہوتا تو بڑے بوڑھوں کی طرح اپنی پسندیدگی کا اظہار ان الفاظ میں کرتا کہ میاں جانے دو اس عمر میں اب ہم بھلا نئی نئی باتیں کیونکر سیکھ سکتے ہیں۔ تاہم شیر خوار بچے نئی عادتیں بہت جلد اختیار کر لیتے ہیں۔ اس دوران میں اگر کوئی بری عادت سیکھ لیں تو وہ بعد میں اچھی تربیت کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے، اس لیے شیر خواری کے زمانے کی عادات کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیئے اگر شروع شروع کی عادات اچھی ہوں تو بہت سہولت ہوتی ہے مزید برآں شیر خوارگی کے زمانے کی عادت اتنی راسخ ہوتی ہے کہ بڑے ہو کر وہ بالکل جبلت معلوم ہوتی ہے۔ اس لئے اعمال پر اس کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے جو عادات بعد میں سیکھی جائیں ان میں یہ پختگی کبھی نہیں ہوتی۔ اس لئے زمانہ طفلی کی عادات خاص طور پر توجہ کی مستحق ہیں۔ اس سلسلے میں دو باتیں پیش نظر رکھنی چاہئیں۔ اول اور سب سے مقدم صحت، دوم سیرت، ہم چاہتے ہیں کہ بچہ بڑا ہو کر ایک ایسا انسان ثابت ہو جس کے اوصاف پسندیدہ ہوں اور جو اپنے گرد و پیش سے احسن طریقے سے عہدہ برآ ہو سکے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ صحت اور سیرت دونوں کے مطالبات ایک ہیں۔ جو چیز ایک کے لئے مفید ہے وہی دوسرے کے لئے مفید ہے۔ یہاں بحث سیرت سے ہے لیکن جو اصول ہم سیرت کی بہتری کے لئے وضع کریں گے وہی صحت کے لئے بھی مفید ہیں گویا یہ نہیں ہو سکتا کہ بچہ تنومند تو ہو لیکن اس کے اخلاق برے ہوں یا نیک سیرت تو ہو لیکن اس کا جسم امراض کا شکار ہو۔