عمران خان کا اتوار کو ’’یوم تشکر‘‘ منانے کا اعلان

12

پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے نواز شریف کی نااہلی پر اتوار کو یوم تشکر منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے گزشتہ 21 برسوں میں جو بھی ان کےساتھ جدو جہد میں شامل رہا وہ پریڈ گراؤنڈ پہنچے۔

بنی گالہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ کوشش انسان کرتا ہے کامیابی اللہ دیتا ہے، میں اللہ کا بڑا شکر گزار ہوں، ایک بڑی جدوجہد جو 2013 کے الیکشن سے شروع ہوئی، خصوصی طور پر 126 دن دھرنے، سڑکوں اور سپریم کورٹ سے ہوتے ہوئے ہم یہاں پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ میں پاکستان کے لیے اللہ کا شکرگزار ہوں نہ کہ اپنے لیے، یہ ملک عدل اور انصاف کے لیے بنا تھا، مجھے آج خوشی ہے جو میں امید رکھتا تھا کہ ایک دن ہمارا ملک بھی علامہ اقبال کے خواب کی طرف جائے گا، مجھے خوشی ہے کہ آج اس خواب کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

چیرمین تحریک انصاف نے کہا کہ میری نواز شریف سے لڑائی نہیں تھی، نواز شریف نے میرا کچھ نہیں لیا جب کہ میں انہیں 40 سال سے جانتا ہوں، ہمارے ملک میں طبقاتی قانون ہے ملک آگے نہیں بڑھ سکا کیونکہ یہاں 2 قانون ہیں، جیلوں میں کمزور لوگ ہیں جب کہ اس ملک کے بڑے بڑے ڈاکو اسمبلی میں ہیں جن کو قانون ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کی عدلیہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جے آئی ٹی ارکان قوم کے ہیرو ہیں،اگر ملک کی عدلیہ چاہے تو طاقت ور کا بھی احتساب ہوسکتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ آج ہم تباہی کے کنارے کھڑے ہیں ہم مقروض ہیں، 10 ارب ڈالر کا قرضہ لیا گیا ہے، ہمارے پیسے ملک سے باہر جارہے ہیں جس کے لیے ہمیں قرضے لینے پڑرہے ہیں جب کہ بڑے بڑے ڈاکو جن کا ایک ایک گھر 6سو ارب کا ہے۔ انہوں نے کہا قومیں جنگوں اور بمباری سے تباہ نہیں ہوتیں، قومیں اس وقت تباہ ہوتی ہیں جب وہاں انصاف کے ادارے ختم ہوجائیں، ہمیں امید اس لیے ملی ہے کیوں کہ آج سپریم کورٹ طاقت ور کو انصاف کے نیچے لیکر آئی ہے جب کہ یہ شروعات ہے، یہ جو بڑے بڑے ڈاکو ملک کا پیسا چوری کرکے باہر لیکر گئے ہیں اور جو کمیشن کمارہے ہیں اب وہ 10 بار سوچیں گے کہ ایک طاقتور کا احتساب ہوسکتا ہے تو ان کی بھی باری آئے گی۔

چیرمین تحریک انصاف نے اتوار کو پریڈ گراؤنڈ میں جلسے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عوام اگر میرے ساتھ باہر نہ نکلتے تو وہ کبھی کامیاب نہ ہوتے لہذا اتوار کو جلسے میں اللہ کا شکر ادا کرنے سب آئیں جب کہ تحریک انصاف کے کارکن کسی انتشار میں نہیں آئیں، اتوار کو اگلے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی وزرا نے شوکت خانم اسپتال پر حملے کیے جس سے مجھے سب سے زیادہ تکلیف ہوئی، شوکت خانم میں 75 فیصد مریضوں کا علاج مفت ہوتا ہے۔