عبوری وزیر اعظم کیلئے شاہد خاقان، مستقل کیلئے شہباز شریف کے نام کی توثیق

16

نون لیگ میں اتفاق ہو گیا، وزیر اعظم کے قریبی ساتھی شاہد خاقان 45 روز کیلئے عبوری وزیر اعظم نامزد، مستقل وزیر اعظم کیلئے شہباز شریف کے نام کی منظوری۔

اسلام آباد: (فلک نیوز) نون لیگ کی پارلیمانی پارٹی نے میاں نواز شریف کی جگہ شاہد خاقان عباسی کو عبوری وزیر اعظم نامزد کر دیا ہے۔ وہ 45 روز کیلئے وزیر اعظم بنائے جائیں گے۔ نواز کابینہ میں شاہد خاقان وزیر پٹرولیم تھے۔ شاہد خاقان کے بعد میاں شہباز شریف کو موجودہ پارلیمانی دور کے باقی ماندہ عرصے کیلئے وزیر اعظم بنایا جائے گا۔ واضح رہے کہ نون لیگ کو شاہد خاقان کو عبوری وزیر اعظم میاں شہباز شریف کے رکن قومی اسمبلی نہ ہونے کی وجہ سے بنانا پڑا ہے۔ میاں شہباز شریف اس وقت پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں۔ وہ اب اپنی پنجاب اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے کر میاں نواز شریف کے حلقے این اے 120 سے الیکشن لڑ کر قومی اسمبلی میں پہنچیں گے اور پھر پارلیمنٹ سے ووٹ لے کر وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ تاہم شاہد خاقان عباسی چونکہ پہلے ہی قومی اسمبلی کے رکن ہیں، اس لئے وہ آئندہ دو سے تین روز میں قومی اسمبلی سے ووٹ لے کر وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا لیں گے۔ شاہد خاقان میاں نواز شریف کے بعد نون لیگ کے سینئر ترین رکن نہ ہونے کے باوجود وہ خوش قسمت ترین شخص ہیں جن کے نام پر پارٹی کی پوری سینئر لیڈرشپ متفق ہو گئی ہے۔ میاں نواز شریف جب میاں شہباز شریف کے ہمراہ مسلم لیگ نون کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کیلئے پنجاب ہاؤس پہنچے تو ہال  دیکھو دیکھو کون آیا، شیر آیا، شیر آیا  کے نعروں سے گونج اٹھا۔ یاد رہے کہ مشرف کی جانب سے 1999ء میں نواز حکومت کا تختہ الٹا جانے کے وقت شاہد خاقان چیئرمین پی آئی اے تھے اور انہیں بھی میاں نواز شریف کے ساتھ ہی طیارہ سازش کیس میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ مشرف حکومت نے ان پر میاں نواز شریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کیلئے شدید دباؤ ڈالا مگر شاہد خاقان نے نواز شریف سے بے وفائی سے صاف انکار کر دیا تھا۔ یوں وہ میان نواز شریف کے قابلِ اعتماد ساتھیوں میں سے ایک ہیں۔ ادھر، پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے قبل نئے وزیر اعظم کے نام پر غور کیلئے میاں نواز شریف کی سربراہی میں منعقد ہونے والے مسلم لیگ نون کے اعلیٰ سطح اجلاس میں شرکت کے بعد سینئر لیگی رہنماء خواجہ سعد رفیق نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ بطور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی کارکردگی بے مثال ہے، وہ مسلم لیگ ن کے صدر بھی رہ چکے ہیں، پارٹی میں وزارت عظمیٰ کے لئے ان کے نام پر اتفاق ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ صادق اور امین کی کہانی اب چلےگی، یہ سلسلہ سیاستدانوں تک نہیں رکنا چاہئے، یہ ہر اس جگہ جانی چاہئے جہاں فیصلے کئے جاتے ہیں، خان صاحب! بغلیں نہ بجائیں کیونکہ کچھ روز تک آپ بغلیں جھانکیں گے، خوشیاں منانے والوں کو پتہ چل جائے گا کہ انہوں نے کیا غلطی کی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جمہوریت مخالف قوتوں کا خیال تھا کہ نواز شریف خطرناک ہیں مگر اب وہ وزیر اعظم نہیں ہیں تو سیاسی طور پر وہ زیادہ مؤثر اور خطرناک ہوں گے۔  دریں اثناء، آئندہ وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے ناموں کے حتمی اعلان کیلئے پنجاب ہاؤس میں مسلم لیگ نون کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس شروع ہو چکا ہے۔ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف اجلاس میں شرکت کیلئے وزیر اعظم ہاؤس سے پنجاب ہاؤس پہنچ گئے ہیں۔