عائشہ تاکیا سے شادی کرنے پر مسلمان سیاستدان کے بیٹے کو قتل کی دھمکیاں

19

بالی ووڈ کی نامور اداکارہ عائشہ تاکیہ کے شوہر اور بھارتی سیاسی جماعت سماج وادی پارٹی کے رکن ابواعظمی کے بیٹے فرحان اعظمی کو ہندو اداکارہ سے شادی کرنے پر انتہا پسندوں کی جانب سے دھمکیاں موصول ہورہی ہیں۔

نام نہاد سیکیولر ریاست کے طور پرمشہور بھارت میں سب سے زیادہ انتہا پسندی پائی جاتی ہے، جہاں مسلمانوں کے علاوہ ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بھی محفوظ نہیں ہیں، حال ہی میں سماج وادی پارٹی کے اہم رکن ابو اعظمی کے صاحبزادے فرحان اعظمی کو ہندواداکارہ عائشہ تاکیہ کو جیون ساتھی بنانے پر دھمکی آمیز فون کالز موصول ہوئی ہیں جن میں انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق عائشہ تاکیہ اور فرحان اعظمی 2009 میں شادی کے بندھن میں بندھے تھے،دونوں کا ایک 5 سال کا بیٹا میکائل اعظمی بھی ہے، تاہم ہندو لڑکی کی ایک مسلمان سے شادی بھارتی انتہا پسندوں کو ہضم نہ ہوئی اور شادی کے 8 سال بعد بھی انہوں نے  اس جوڑے کی زندگی میں مشکلات کھڑی کررکھی ہیں ، فرحان اعظمی نے ممبئی پولیس میں شکایت درج کرواتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ دو روز قبل انہیں نامعلوم شخص کی جانب سے فون کال موصول ہوئی جس نے انہیں عائشہ سے شادی کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی، فرحان نے نامعلوم شخص کے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ اس شخص کا تعلق ممکنہ طور پر راجستھان ہندو سینا کےانتہا پسند گروپ سے ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب عائشہ تاکیہ نے اس معاملے پر موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا اس معاملے پر مجھے اپنی رائے پیش کرنے کی کوئی ضرورت ہے کیونکہ میں فرحان کے ساتھ شادی کرکے بہت خوش ہوں دوسرے ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہیں اس بارے میں میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔