بھارت سے آزادی چاہتے ہیں، حریت قیادت

8

مقبوضہ کشمیر میں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اوریاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے کہا ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی مکمل طور پر ان کی اپنی تحریک ہے جس کا واحد مقصد بھارت کے جبری قبضے سے آزادی ہے۔

حریت قیادت نے مقبوضہ علاقے میں داعش یا القاعدہ کے کردار کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے پالیسی ساز اور خفیہ ادارے کشمیریوں کی تحریک آزادی کونقصان پہنچانے کیلیے انتہائی خطرناک اورمذموم منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

یاسین ملک نے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی(این آئی اے) کی طرف سے کشمیری آزادی پسند رہنماؤں کی گرفتاری کو استعماری حربہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا واحد مقصد تحریک آزادی کو بدنام کرنا ہے، مقبوضہ کشمیر میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھارتی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی طرف سے حریت رہنماؤں کو تفتیش کیلیے نئی دہلی منتقل کرنے اور وہاں ان کے خلاف پولیس ریمانڈ حاصل کیے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مشترکہ قیادت نے سری نگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ دنیا کی امن پسند اقوام نے بھی جموں کشمیر کی متنازع حیثیت کو تسلیم کیا ہوا ہے اور کشمیری اس مسئلے کو پرامن ذرائع سے حل کرنے کے خواہشمند ہیں، انھوں نے کہا کہ جہاں تک القاعدہ یا داعش کا تعلق ہے انھوں نے جہاد اور شریعت کے نام پر پوری دنیا میں مسلمانوں کا ہی قتل عام کیا ہے اور کسی غاصب اور قابض کے خلاف کوئی جدوجہد نہیں کی بلکہ ان کی کارروائیوں کا خمیازہ مسلمانوں کو ہی بھگتنا پڑا ہے، انھوں نے کہا کہ شام، عراق، افغانستان، لیبیا وغیرہ اس کی زندہ مثالیں ہیں جہاں خواتین اور معصوم بچوں کی لاشوں کے ڈھیر لگائے گئے اور شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا اور اب یہ تنظیمیں بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کی ایما پر ایسے ہی حالات جموں کشمیر میں پیدا کر کے یہاں کی برحق جدوجہد کو عالمی دہشت گردی کے ساتھ نتھی کرکے کچلنا چاہتی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ جموں کشمیر ایک متنازع خطہ ہے جس پر بھارت نے جبری طور پر قبضہ کر رکھا ہے اور کشمیری عوام اس قبضے کے خلاف عظیم اور بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں، مزاحمتی قائدین نے کشمیریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ نازک حالات کو سمجھتے ہوئے کسی کے مکروفریب میں نہ آئیں اور حقِ خودارادیت کی تحریک کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کیلیے اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق کو مزید فروغ دیں۔

دریں اثناء ضلع بڈگام کے علاقے بیروہ میں سینکڑوں لوگوں نے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ایک نوجوان کے حالیہ بہیمانہ قتل کے خلاف ایک پر امن احتجاجی ریلی نکالی، دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی نام نہاد اسمبلی کے رکن اور عوامی اتحاد پارٹی کے صدر انجینئر عبدالرشید نے کہا ہے کہ تنازع کشمیر کا واحد حل کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق، حق خودارادیت دینے میں مضمر ہے۔