’’ خالی جیب سے ارب پتی ہونے تک ‘‘

29

ہر ماہ پندرہ تاریخ پر فیس جمع نہ کرانے والوں کو کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہ ہو گی۔‘‘ یہ اعلان ہونے کے بعد میری پریشانی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ کافی دنوں سے میں اپنی یونیورسٹی فیس کے بارے میں بہت پریشان تھا۔ گھر کے حالات کچھ ایسے نہ تھے کہ میں اپنی بھاری بھر کم فیس کا بوجھ اپنے والدین کے کاندھوں پر ڈال دیتا۔ادھر میرے پاس بھی اس کا بظاہر کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ اسے مقررہ دن پر ادا کرپاتا۔مجھے ڈاکٹر بننے کا بہت زیادہ شوق تھا،لیکن اب مجھے خطرہ محسوس ہورہا تھا کہ کہیں میرا  ڈاکٹری کا خواب چکنا چور نہ ہو جائے۔میں ایک دن پریشانی کے عالم میں اسکول پہنچا تو نوٹس بورڈ پر آویزاں اعلان پڑھ کر مجھے شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔ فیس ادا کرنے کا دن قریب آ چکا تھا اور میری جیب میں دھیلا تک نہ تھا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ میرا ضمیر بھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔گھر میں غربت کا ڈیرہ تھا۔ اس لیے میں اپنا تعلیمی خرچ پورا کرنے کے لیے ایک اسٹور پر کام کرتا تھا۔ وہاں سے ملنے والی مزدوری سے بمشکل گزارا ہو رہا تھا۔ یونیورسٹی کی فیس زیادہ تھی، جو میری استطاعت سے باہر تھی۔ میں پارٹ ٹائم کی جاب سے اسے پورا نہیں کر سکتا تھا۔ اپنی پریشانی کو کم کرنے کے لیے اپنے ایک پرانے اور دیرینہ دوست کے پاس چلا گیا کہ اس سے کوئی مشورہ یا بات وغیرہ کر وں، جو میری پریشانی کو ہلکا کر دے اور اس مشکل سے نکلنے کی کوئی سبیل پیدا ہو۔وہ منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ اس دن گرم لُوچل رہی تھی۔ چلچلاتی دھوپ اور دوپہر کا وقت۔ میں اپنے دوست کے گھر میں موجود تھا۔ میرے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ میرے دوست پیٹربک نے مجھے دیکھا تو میری پریشانی بھانپ گیا۔ میں نے ساری صورت حال بتادی۔ اس کے بعد اس نے مجھے مشورہ دیا کہ ’’آپ ایک سینڈوچ شاپ کھول لیں۔‘‘ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا،یہ جواب میری توقع سے بہت مختلف تھا۔ میں گہری سوچ میں پڑ گیا۔پیٹر نے میری ہمت یوں بندھائی کہ اگر میں یہ بزنس شروع کروں تو وہ بھی میرا پارٹنر ہو گا۔میرے لیے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا، میرے پاس تو یونیورسٹی کی فیس دینے کے لیے کچھ نہ تھا۔ بزنس کے لیے تو سرمایہ چاہیے، وہ میں کہاں سے لاتا؟ یہ مسئلہ صرف میرے ساتھ نہ تھا، بلکہ دنیا میں جو شخص بھی بزنس کا ارادہ کرتا ہے اسے مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسروں کی نوکری چاکری کرتے کرتے میں بھی تھک چکا تھا۔ اب اپنا بزنس شروع کرنے کی خواہش انگڑائی لینے لگی۔اس تمنا کو آخر پیٹر ہی نے پورا کر دیا۔ اس نے بزنس شروع کرنے کے لیے ایک ہزار ڈالر بطورِ قرض دیے۔میں نے اس کا شکریہ ادا کیا۔ اندھے کوکیا چاہیے دو آنکھوں کے سوا۔ہم دونوں نے مل کر 1965 ء کو برج پورٹ میں ایک سب وے سینڈ وچ شاپ کھول لی۔یہی آگے چل کر دنیا کی نمبر ون کمپنی بنی۔ پہلے سال جہاں سیکھنے کو بہت کچھ ملا، وہاں مشکل حالات کا بھی خوب سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران مجھے احساس ہوا کہ بزنس کے پھیلاؤ کے لیے ایڈورٹائزنگ اور پبلسٹی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔اس کے علاوہ ویزیبلٹی بہت ضروری ہے۔یعنی دکان ایسی جگہ پر ہو، جو دور سے نظر آئے۔ اگلے ہی سال ہم دونوں دوستوں نے دوسرا اسٹور بھی کھول لیا۔ ہم نے ابتدا ہی سے اپنی پروڈکٹ ’’سینڈوچ‘‘ کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ قبول نہ کیا۔ عمدہ معیار کی وجہ سے دِنوں میں ہمارے گاہک بڑھتے گئے۔ ہماری پروڈکٹ کا شہرہ ہونے لگا۔اس بڑھتی ہوئی مقبولیت اورہر دلعزیزی کو دیکھ کر میں نے عزم کیا کہ آئندہ 10 سالوں میں 32 اسٹور مزید کھولوں گا۔ اس خواب کو پورا کرنے کے لیےایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ یہاں ایک بات قابلِ غور ہے کہ میں اسی ایک اسٹور کو بھی بڑا کر سکتا تھا، لیکن اس میں کاہگوں کے لیے مسائل تھے۔ وہ ہمارے سینڈ وچ کو پسند کرتے تھے اور اس کے لیے انہیں سفر کی صعوبت بھی اٹھانی پڑتی تھی۔ مجھے یہ بات گوارا نہ تھی۔ اگر آپ بزنس کو ترقی دینا چاہتے ہیں تو اس کے لیے فرنچائزیں کھولیں۔ جب آپ کی ساکھ بن چکی ہوتی ہے تو کسٹمرز اپنے قریبی اسٹور سے آپ کی پروڈکٹ خریدنا پسند کرتے ہیں۔فاسٹ فوڈز کے بزنس میں ضروری ہے کہ آپ مختلف جگہوں اور شہروں میں اپنی فرنچائز اور اسٹورز کھولیں۔ اتنی بات ضرور یاد رکھیں کہ اپنی پروڈکٹ اور کسٹمر سروس کی کوالٹی اور معیار میں رتی برابر فرق نہ آنے دیں، ورنہ آپ کا بزنس پانی کا بُلبُلہ ثابت ہو گا۔ کون جانتا تھا کہ فریڈ ڈیلوکا ڈاکٹر بن کر لوگوں کا علاج کرنے کے بجائے ان کی غذا کا سامان کرے گا۔ آج میری سب وےکمپنی 106 ممالک میں 41 ہزار 827 ریسٹورنٹ کے ساتھ موجود ہے۔ یہ دنیا میں فاسٹ فوڈز کی نمبر ون کمپنی ہے