فیڈیکس اور اس کے مالک کی کہانی

11

انیس سو پینسٹھ میں فریڈ سمتھ ییل یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا، اس نے اپنے معاشیات کے فائنل پروجیکٹ کے لیے ایک ایک ایسا ریسرچ پیپر بنایا جو ایک ایسی کمپنی کا خاکہ تھا جوامریکہ میں سامان کی نقل وحمل کرتی تھی۔اس نے پہلے تفصیلاً بہت سے ایسے سسٹم پڑھے جو سامان کو ڈبوں میں ڈال کر ٹرک یا جہازوں کے زریعے ان کی آمدورفت کرتے تھے۔ اس نے ان کی تمام خرابیاں نکال کر ایک ایسا سسٹم ترتیب دیا جو سب سے موثر تھا۔جب اس کا فائنل پیپر گریڈ ہو کر واپس آیا تو اس کو ’سی‘ملا تھا مگر  اس نے اپنا خواب ضائع نہیں کیا ۔ بلکہ 1971میں اس خواب کو عملی جامہ پہنایا۔اس نے اپنی ایک کمپنی کھولی جس کا نام فیڈرل ایکسپریس تھا۔ اس نے سامان کو چھوٹے چھوٹے ڈبوں میں ڈال کر جہازوں کے زریعے ان کی آمدورفت کا سلسلہ شروع کیا۔صرف تین سال کے دورانیے میں اس کی کمپنی بری طرح ناکام ہو رہی تھی کیونکہ جتنا منافع ہوتا تھا اس سے کہیں زیادہ پیسے جہازوں کے فیول پر خرچ ہو جاتے تھے۔ اس کی کمپنی کے اکاؤنٹ میں صرف پانچ ہزار ڈالر باقی بچے تھے۔ اس نے جنرل ڈائینیمکس کو کال ملائی اور ان سے فنڈنگ کی درخواست کی۔ انہوں نے اسے کسی قسم کی امداد یا قرضہ دینے سے انکار کر دیا۔ اس نے ایک ترکیب سوچی اور کمپنی کے اہلکاروں کو بتائے بغیر ایک سر پھرہ رسک لینے نکل کھڑا ہوا۔ وہ اپنے پانچ ہزار ڈالر لے کر ویگس گیا اور اپنے سارے پیسے جوئے پر لگا دیے۔ اس کی قسمت اچھی تھی کہ وہ بلیک جیک میں ان پانچ ہزار ڈالر پر بتیس ہزار ڈالر جیت گیا۔ اگلے دن جب وہ واپس لوٹا اور اس کی کمپنی نے اکاؤنٹ میں اتنی فنڈنگ دیکھی تو وہ ایک بار پھر محنت اور لگن سے کام میں جت گئے۔ آج فیڈیکس نے دنیا میں سامان کی نقل و حرکت کا نقشہ بدل دیا ہے اور لوکل کمپنیاں جیسے ٹی سی ایس وغیرہ بھی گھر گھر اسی طرح سامان اور تحائف پہنچانے میں مصروف ہیں۔ آج فیڈیکس دنیا کے دوسوبیس ممالک میں بخوبی کام کر رہی ہے اور ان کا سالانہ منافع لگ بھگ پینتالیس بلین ڈالر کے قریب ہوتا ہے۔