کس کی سازش؟ھارون الرشید (ناتمام)۔

11

 

ایک کروڑ مظاہرین بھی میاں صاحب اگر جی ٹی روڈ پر لے آئیں تو کوئی نتیجہ اس کا نکلنے والا نہیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ بدل نہیں سکتا۔
سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کو میاں محمد نواز شریف نے پیغام بھیجا۔ وزیر اعظم کی حیثیت سے غالباً آخری پیغام: اپنے افسروں کی آپ پشت پناہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: اس کے سوا میں کیا کرتا؟ سامنے کی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا۔ اسی آئین کے تحت جو مقدس ہے۔ تمام طبقات کے درمیان جو ایک پختہ عہد ہے اور آج کل جس کی تقدیس کا نغمہ سب سے زیادہ نون لیگ الاپتی ہے۔ بیس کے بیس کروڑ پاکستانی‘ عدالت عظمیٰ کے احکامات کی پاسداری کے پابند ہیں۔ اسی آئین کے تحت 2007ء میں سابق وزیر اعظم واپس آئے۔ اسی سپریم کورٹ نے فیصلہ صادر کیا تھا‘ وگرنہ معاہدے کے تحت ابھی دو اڑھائی برس انہیں سمندر پار بِتانا تھے۔ 2008ء کے الیکشن میں وہ حصہ نہ لے سکتے۔ پنجاب میں ان کی حکومت قائم نہ ہوتی اور وزارتِ عظمیٰ کی راہ ہموار نہ ہوتی۔
دو صورتیں ہیں‘ ایک یہ کہ دستور کے تحت حکمران چنے جائیں۔ دوسری یہ کہ طاقت کے بل پر دارالحکومت کو فتح کر لیا جائے۔ دوسرا قرینہ بروئے کار آئے تو میاں محمد نواز شریف نہیں‘ راولپنڈی والے تخت پر براجمان ہوں گے یا جسے وہ کرنا چاہیں۔ وہ آئین جو ایک آدمی‘ ایک ووٹ کا حکم صادر کرتا ہے‘ وہی عدالتِ عظمیٰ کے ججوں کو اختیار دیتا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی پر‘ کسی افسر کو نکال باہر کریں‘ کسی سیاستدان کو برطرف کر دیں۔ اس میں ابہام کہاں ہے؟
اصول اگر اکثریت کی تائید ہے‘ جس کا دعویٰ شریف خاندان کو ہے تو اس کا اطلاق فقط انہی پر کیوں ہو۔ ایک کونسلر کے خلاف اگر کوئی مقدمہ درج ہو‘ فرض کیجئے‘ منشیات فروشی کا ایک اڈا چلانے کا۔ دس ہزار کی آبادی میں‘ اگر ساڑھے پانچ ہزار افراد کا تائیدی بیان وہ حاصل کر لے: اس اڈے پر کوئی اعتراض ہمیں نہیں۔ بیوہ عورتیں اور یتیم بچے اس کی آمدن سے پلتے ہیں۔ بیماروں کا علاج اس کی مدد سے ہوتا ہے۔ غریب طلبہ کی فیس ادا کی جاتی ہے۔ تو کیا کرنا چاہیے؟
تحریک انصاف کے کارکنوں کی اکثریت‘ اگر ایک درخواست پر لکھ دے کہ عائشہ گلالئی جھوٹی اور عمران خان سچے ہیں؟ چلئے یہ بھی نہیں۔ فرض کیجئے 51 فیصد پاکستانی شہری‘ تحریری طور پر‘ قرار دیں کہ نواز شریف خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں؟ خوئے بد را بہانہ بسیار۔
رہا یہ ارشاد کہ میاں صاحب کے خلاف سازش کی گئی تو آئے دن عدالتیں متنازعہ فیصلے صادر کرتی ہیں۔ نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کی ویب سائٹ پر جائیے۔ بارہ برس پہلے الگور اور صدر بش کے تنازعے میں امریکی سپریم کورٹ کے احکامات پہ ماہرین کا ردعمل کیا تھا؟ بہت بڑی تعداد نے اس فیصلے کی اصابت پہ سوال اٹھائے تھے۔ مثالیں پیش کی تھیں۔ الگور کے حامیوں نہیں‘ بہت سے غیرجانبدار لوگوں نے بھی۔ اگرچہ فرض کرنا مشکل ہے‘ لیکن کر لیجئے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ خوش نیتی سے صادر نہیں ہوا تو؟ جلوس سے فیصلہ ہونا ہے تو ممکن ہے کہ چند ہفتے بعد‘ عمران خان میاں صاحب کے مظاہرین سے بڑھ کر مظاہرین لے آئیں۔ اب تک واضح نہیں ہو سکا کہ جے آئی ٹی کے افسروں پہ اعتراض کیا ہے؟ ان میں سے کبھی کسی پر بدعنوانی کا الزام لگا؟ کبھی کوئی چھوٹا سا جرم بھی سرزد ہوا۔ جھوٹی سچی کوئی ایف آئی آر ہی ہوتی؟ جھوٹا تو میاں صاحب کا پشتباں افسر نکلا۔ مبینہ طور پر‘ جس نے ان کے ایک فیکٹری کے خلاف تحقیقات میں مداخلت کی؟ لندن میں جے آئی ٹی کے وکیل پہ اعتراض ہے۔ میاں صاحب کے برادر خورد سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ ہو سکتے ہیں‘ محض اس بنا پر کہ وہ ان کے چھوٹے بھائی ہیں۔ جے آئی ٹی کے سربراہ کا رشتہ دار کاغذات کی تلاش میں مددگار ہوا تو کیا یہ جرم ہے؟ کیا اس کی فراہم کردہ دستاویزات ناقص ہیں؟ جعلی ہیں؟ جیسی کہ شریف خاندان کی؟ جیسا کہ قطری شہزادے کا خط؟ آپس کی بات یہ ہے کہ راجہ اختر کا انتخاب جاوید ضیا نہیں‘ کمیٹی نے کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے ذمہ دار سرکاری افسروں کو اس کے کوائف جانچنے کا حکم دیا۔ باقی تاریخ ہے۔
کوئی بھی ذمہ دار پاکستانی اخبار نویس لندن جائے اور تحقیق کرے کہ اس آدمی کی شہرت اور ماضی کیا ہے۔ یہ کہنے پر وہ مجبور ہو گا کہ وہ ایک اجلا آدمی ہے۔ یہی نہیں‘ ایثار کیش اور صداقت شعار۔ تین چار برس سے‘ اس باہمت اور بے ساختہ آدمی کو یہ ناچیز جانتا ہے۔ بہترین لوگوں نے اس کا نام تجویز کیا تھا اور بہترین طور پر اپنے فرائض اس نے انجام دیئے۔
سازش؟ کون سی سازش؟ محترمہ مریم نواز صاحبہ کو اس انٹرویو کا مشورہ کس نے دیا تھا‘ جس میں انہوں نے کہا: لندن تو کیا پاکستان میں بھی میری کوئی جائیداد نہیں۔
اس دو ٹوک اعلان کے بعد‘ حسین نواز صاحب کو کس نے مجبور کیا کہ ایک دوسرے ٹی وی پروگرام میں محلات کی ملکیت تسلیم کریں۔
قومی اسمبلی میں میاں صاحب محترم نے اس جائیداد کے بارے میں ایک موقف اختیار کیا‘ ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں دوسرا اور جے آئی ٹی میں تیسرا؟ کس کی سازش؟
برطانوی حکومت نے تصدیق کی کہ جنابِ حسین نواز کی نہیں پاناما میں رجسٹر کرائی جانے والی نیلسن اور نیسکول نام کی کمپنیاں محترمہ مریم نواز کی مِلک ہیں۔ کس کی سازش؟
دبئی حکومت نے اس دعوے کو جھوٹا قرار دیا کہ 12 ملین ڈالر ان کی سرزمین پر لائے یا لے جائے گئے۔ کس کی سازش؟
خاندان کا دعویٰ تھا کہ دبئی سے سٹیل مل کی پرانی مشینیں جدّہ لے جائی گئیں۔ دبئی حکومت نے اس دعوے کو جھوٹ کہا۔ کیوں کہا؟
محترمہ مریم نواز اور جناب حسین نواز کے درمیان مبینہ سمجھوتہ (Trust deed) جعلی ثابت ہوا۔ کیا سپریم کورٹ کے ججوں نے جعلی کاغذات تیار کرنے کا مشورہ دیا تھا؟ جے آئی ٹی کے ارکان یا شریف خاندان کے وکلا نے؟ سازش یقینا ہوئی مگر شاید ان کے وکلا کی طرف سے۔ بعد میں ان میں سے ایک نے شکایت کی تھی کہ سینیٹ کا رکن اسے کیوں نہ بنایا گیا۔ میاں صاحب کا جواب یہ تھا: ایم اے او کالج کے قریب ایک قیمتی پلاٹ اسے دے دیا۔ اس کے صاحبزادے کو وزیر اعظم کا مشیر بنا دیا۔ اس سے بڑھ کر اور کیا؟ لاہور میں گزشتہ چند ماہ کی رجسٹریوں کا ریکارڈ دیکھ لیا جائے۔ گزشتہ ہفتے تک وزیر اعظم کے سابق مشیروں کی فہرست پہ نظر ڈال لی جائے۔
سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے کہ عزیزیہ سٹیل مل خسارے میں تھی۔ کس نے یہ سازش کی؟ منافع ظاہر کرنے کی؟ سعودی عرب سے منتقل سرمائے کا ریکارڈ فراہم نہ کرنے کی؟
اہم ترین گواہوں میں سے ایک نیشنل بینک کا سربراہ برطانیہ میں سزا یافتہ ہے یا نہیں؟ کیا یہ بھی سازش تھی؟ برسوں پہلے برطانوی حکومت کی مدد سے مرتب کی گئی سازش؟
پاکستان میں سینیٹر اور بعد ازاں وزیر خزانہ جناب اسحاق ڈار کا دبئی میں ملازمت کا اعتراف؟ کیپٹن صفدر نے 15000 ریال جیب خرچ سو فیصد کا سو فیصد بچا رکھا اور ایک ہزار ایکڑ زمین اس سے خرید لی؟
ایک کروڑ مظاہرین بھی میاں صاحب اگر جی ٹی روڈ پر لے آئیں تو کوئی نتیجہ اس کا نکلنے والا نہیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ بدل نہیں سکتا۔