مقبوضہ کشمیر میں بھی پاکستان کا یوم آزادی جوش و خروش سے منایا گیا

15

کشمیری عوام  نے قابض بھارتی فوج کے تمام تر مظالم اور پابندیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستانیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے جشن آزادی منایا۔ وادی کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے سبز ہلالی پرچم لہرائے اور پاکستان زندہ باد، بھارت مردہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ کئی مقامات پر آزادی کے متوالوں نے جان پر کھیل کر پاکستانی پرچم بلند کیے اور سلامی دی۔ اس موقع پر پاکستان کا قومی ترانہ بھی پڑھا گیا۔

مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ کے موران چوک میں بچوں نے بھارت کے سینے پر مونگ دلتے ہوئے 14 اگست کی پریڈ کی جس کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔ بھارتی پولیس نے ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے متعدد افراد کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔

وادی جموں و کشمیر کے متعدد علاقوں میں یوم آزادی کی تقریبات کا اہتمام کیا گیا جہاں شرکا کو مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے قبضہ اور پاکستان سے الحاق کی دیرینہ خواہش کے تاریخی پس منظر سے آگاہ کیا گیا، جب کہ کل مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔ کشمیریوں نے سوشل میڈیا پر بھی پاکستان کو یوم آزادی کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ہمارے جسموں پر تو قبضہ کیا ہوا ہے لیکن ہمارے دل پاکستان کے لیے دھڑکتے ہیں۔

خواتین کی تنظیم دختران ملت نے بھی یوم آزادی کی تقریب کا اہتمام کیا۔ دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے کہا کہ کئی مقامات پر منعقدہ تقاریب میں پاکستان کی حفاظت و سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں اور قومی ترانہ بھی پڑھا گیا۔

ادھر ضلع بڈگام کے علاقے شادورا میں حزب المجاہدین کے شہید کمانڈر محمد یسین ایٹو عرف کمانڈر غزنوی کے نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ نمازیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ چار بار نماز جنازہ پڑھائی گئی۔ اس موقع پر ہر آنکھ اشک بار تھی۔ بچے، بڑے، خواتین ہر شخص حریت پسند کمانڈر کے آخری دیدار کے لیے امڈ آیا۔ کمانڈر غزنوی کی سبز ہلالی پرچم میں تدفین کی گئی۔

کمانڈر غزنوی گزشتہ روز شوپیاں میں بھارتی فوج کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہوگئے تھے۔ پولیس نے کمانڈر غزنوی کے جنازے میں شرکت کے لیے جانے والے کشمیری رہنما محمد یسین ملک کو گرفتار کرلیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پچھلے سال 14 اگست کو کمانڈر غزنوی دیگر عسکریت پسند کمانڈرز کے ہمراہ سبز کپڑے پہن کر کلگام کے علاقے میں نکالی گئی ایک بڑی ریلی میں شریک ہوئے تھے اور عوام سے خطاب کیا تھا۔  حزب المجاہدین نے کمانڈر غزنوی کی شہادت کے بعد محمد بن قاسم نامی مجاہد کو وادی میں اپنا نیا کمانڈر بنانے کا اعلان کردیا ہے۔ دوسری جانب ضلع بڈگام کے علاقے ماگام میں بھارتی فورس ’’سی آر پی ایف‘‘ پر دستی بم حملے میں 4 اہلکار زخمی ہوگئے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر مسلم اکثریتی ریاست ہے۔ 1947ء میں ہندوستان کی تقسیم کے وقت کشمیری عوام پاکستان سے الحاق کے حامی تھے لیکن بھارت نے اس پر غاصبانہ قبضہ کرلیا جسے کشمیری عوام نے آج تک تسلیم نہیں کیا۔ گزشتہ 70 سال سے جاری جدوجہد آزادی میں ہزاروں کشمیری جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں 94 ہزار 767 افراد شہید اور لاکھوں زخمی ہوچکے ہیں۔