بھارتی یوم آزادی پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ اور ہڑتال

6

مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منارہے ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری آج بھارتی یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں تاکہ دنیا کو باور کرایا جاسکے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ حریت کانفرنس کی اپریل پر وادی میں کشمیریوں نے مکمل ہڑتال کی اور تمام کاروباری مراکز بند رہے۔

بھارت نے وادی بھر میں کرفیو اور دیگر پابندیاں عائد کردیں، باالخصوص دارالحکومت سری نگر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے سیکیورٹی کے نام پر پورے سری نگر کو سیل کردیا۔ ریاست بھر میں بھارتی فوج اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ لوگوں کو رابطے اور احتجاج سے روکنے کے لیے انٹرنیٹ اور فون سروس بھی معطل کردی گئی۔

تمام پابندیوں کے باوجود کشمیریوں نے مختلف علاقوں میں سیاہ پرچم لہرائے اور بھارتی قبضے کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے اپنی تصاویر کو کسی نہ کسی طرح سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیا۔

حریت رہنماؤں سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یسین ملک نے اپنے مشترکہ بیان میں بھارتی قبضے کے خلاف ہڑتال کی کال دیتے ہوئے وادی میں کرفیو نافذ کرنے پر بھارت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قابض افواج ہر بار پرامن احتجاج کو روکنے کے لیے کرفیو اور دیگر پابندیاں عائد کردیتی ہیں۔

ادھر کینیڈا، برطانیہ اور ناروے سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم کشمیریوں نے بھی یوم سیاہ منایا۔ مظاہرین نے بھارتی سفارت خانوں اور قونصلیٹس کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے اور اقوام متحدہ و عالمی برادری سے کشمیر میں بھارتی مظالم پر اپنی مجرمانہ خاموشی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔