بھارتی سپریم کورٹ کا ہندو لڑکیوں کی مسلمانوں سے شادیوں کی تحقیقات کا حکم

13

بھارتی میڈیا کے  مطابق سپریم کورٹ نے ریاست کیرالا سے تعلق رکھنے والی نومسلم خاتون کی مسلمان نوجوان سے شادی کی منسوخی کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کی۔ عدالت نے ہندو لڑکیوں کے اسلام قبول کرنے اور مسلمان نوجوانوں سے شادیوں کے زور پکڑتے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) سے کرانے کا حکم دیا۔

مسلمان جوڑے کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ نومسلم لڑکی نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور اس کا بیان بھی سنا جائے لیکن عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے نومسلم لڑکی کا بیان بھی سننا گوارا نہ کیا اور جوڑے کے تمام مضبوط دلائل کو مسترد کردیا۔

سپریم کورٹ نے این آئی اے کو انکوائری کا حکم دیا کہ کیا مسلمان نوجوان بشمول کالعدم اسلامی تنظیمیں ہندو لڑکیوں کو مسلمان کرکے انہیں دہشت گرد بنا رہی ہیں۔ ججز نے کہا کہ کسی بھی شخص کو اس کی مرضی سے کوئی خطرناک کام کرنے پر آمادہ کرنا آسان ہوتا ہے۔

این آئی اے کے وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ بھارت میں اپنے والدین سے بدظن نوجوان ہندو خواتین کو پیار کے جال میں پھنسا کر مسلمان کرکے ان سے شادیاں کی جارہی ہیں۔

رواں سال کیرالا سے تعلق رکھنے والی 24 سالہ نوجوان ہندو خاتون آخیلا اشوکاں نے اسلام قبول کرکے اپنا نام ہادیہ رکھا اور مسلمان نوجوان شفیع جہاں سے محبت کی شادی کی۔ ہادیہ کے ہندو باپ اشوک نے اس شادی کے خلاف کیرالا ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کردیا، عدالت نے اس شادی کو یہ کہہ کر منسوخ کردیا کہ یہ ’’لو جہاد‘‘ کا کیس ہے۔ بھارت میں لو جہاد کی اصطلاح ہندو انتہا پسندوں نے ایجاد کی ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ مسلمان نوجوان ہندو لڑکیوں کو اپنے پیار کے جال میں پھنسا کر انہیں مسلمان کرکے شادیاں کررہے ہیں جس کا مقصد بھارت میں ہندوؤں کی آبادی کو ختم کرنا ہے۔ ہادیہ کے باپ نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ شفیع جہاں کا تعلق داعش سے ہے۔

کیرالا کی ہائی کورٹ نے لوجہاد کے دعوے کو بنیاد بناکر ہادیہ اور شفیع جہاں کی شادی کو کالعدم کردیا، حالانکہ ہادیہ نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ وہ برضا و رغبت مسلمان ہوئی ہے اور دونوں کی ملاقات ایک اسلامی شادی ویب سائٹ کے ذریعے ہوئی جہاں ہادیہ نے شادی کا اشتہار دیا تھا۔ شفیع جہاں نے کیرالا ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔