انسان، ا سلام اور انسانیت

48

اختر سردار چودھری ،کسووال
اسلام انسان دوستی اور عظمتِ انسانیت کا علمبردار ہے، اسلام نفرت اور قتل و غارت نہیں امن، سلامتی اور محبت کا درس دیتا ہے۔ سب انسان مٹی سے بنے ہیں ،حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں ،کسی بھی گورے کو کالے پر کالے کو گورے پر ،غریب کو امیر یا امیر کو غریب پر ،کسی رنگ ،نسل ،قوم،علاقے کی وجہ سے کوئی فوقیت نہیں ہے ۔سب انسان برابر ہیں اللہ نے ان کو ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے ۔ذات قبیلے رنگ روپ نسل سب ایک دوسرے کی پہچان کو بنائے ہیں ۔اللہ تعالی قرآن پاک میں فرماتے ہیں ۔اے لوگو ڈرتے رہو اپنے رب سے جس نے پیدا کیا تم کو ایک جان سے اور اسی سے پیدا کیا اس کا جوڑا اور پھیلائے ان دونوں سے بہت مرد اور عورتیں ( النساء) اے ابن آدم (انسانوں) ہم نے تم کو بنایا ایک مرد اور ایک عورت سے اور رکھیں تمہاری ذاتیں اور قبیلے تاکہ آپس کی پہچان ہو ( الحجرات )۔
رہبر انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مسلمان نہ ہو گا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ نہ چاہے جو اپنے نفس کے لیے چاہتا ہے (صحیح بخاری) اور یہ بھی کہ ’’تم میں سے بہتر وہ ہے جودوسرے لوگوں کیلئے فائدہ مند ہے ‘‘انسانوں میں بہتر انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو وہ جتنا فائدہ مند ہو گا اتنا ہی بہتر ہے ۔انسان کا لفظ عربی سے اردو میں آیا ہے یہ انس سے ماخود ہے انس کا مطلب محبت لیا جاتا ہے ،اسی طرح انس سے ناس ،الناس یعنی نوع انسانی جیسے الفاظ بھی ہیں ۔انسان دوستی کا مطلب ہم دوسرے انسانوں کے لیے وہی سب چاہیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں ،جس طرح اپنی ذات کے لیے انسان ،آرام ،عزت،انصاف،آزادی،ترقی وغیرہ چاہتا ہے ایسا ہی دوسرے انسانوں کے لیے چاہے ۔انسان دوسرے تمام انسانوں کے لیے ویسی ہی خواہشات و جذبات رکھے ۔دوسروں کے حقوق کا احترام کرے ۔
تاریخ میں پہلی مرتبہ19اگست کو عالمی یوم انسانیت منایا گیا۔ اِس دن کو منانے کی منظوری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2008ء کے اہم اجلاس میں دی تھی۔ جس کے بعد مذکورہ دن کو منانے کے لیے اقوام متحدہ اور تمام ممبر ممالک کی سطح پر خصوصی اقدامات کیے گئے ۔اس دن کو منانے کا مقصد ان انسانوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے ،جو دوسرے ان انسانوں کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیتے ہیں، جن کے پاس کچھ نہیں ہوتا ۔دین اسلام کے مطالعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ کی محبت کے خواہاں کو اللہ کے بندوں سے پیار کرنا ہوگا۔اگر اللہ سے محبت ہے تو اللہ کی خوشنودی کے لیے اللہ کی مخلوق کی فلاح و بہبوداور خدمت میں تلاش کرے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ اولیاء اللہ اپنی زندگیاں انسان دوستی کے لیے وقف کرتے رہے ہیں اور اسی وجہ سے اللہ کے دوستوں میں شمار ہوتے ہیں ۔
ہم دیکھتے ہیں کوئی بادشاہ ہے صدرہے ،وزیریا مشیر ہے اور دوسری طرف محکوم ہیں عوام ہیں محتاج ہیں ،انسانیت کے لحاظ سے سب برابر ہیں عہدے ،طاقت ،رنگ ،نسل،قوم،دولت میں برابر نہیں ہیں ۔اصل سب پر ذمہ داریاں ہیں ،آزمائش ہے ،امتحان ہے قیامت کو سب سے ان کے اعمال کا حساب لیا جائے گا ۔اسلام میں کسی کوعزت ہے تو صرف متقی ہونے پر ہے اس کے اندر انسانیت پر ہے ۔ اللہ کے نزدیک صاحب عزت و جلال وہ ہے جو جو سب سے زیادہ متقی ہے (الحجرات)۔
قرآن کی زبان میں بھی سب انسانوں کو یا ایھا الناس اے انسانوں کہ کر مخاطب کیا گیا ہے ۔اسلام پوری انسانیت کے لیے دین ہے، اسلام نظام حیات ہے ۔اسلام کے نظام عدل و انصاف میں بھی کسی قوم ،قبیلہ ،رنگ ،نسل،عہدے ،امیر یا غریب کو استثنیٰ حاصل نہیں ہے ۔صرف ایک واقعہ مختصر بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کر لی تھی۔ قریش نے (اپنی مجلس میں) سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس عورت کی سفارش کے لیے کون جا سکتا ہے ؟ کوئی اس کی جرات نہیں کر سکا، آخر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے سفارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں یہ دستور ہو گیا تھا کہ جب کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹتے ۔ اگر آج فاطمہ (رضی اللہ عنہا) نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا۔( بخاری حدیث 3733)
ایک بات بڑی اہم ہے تمام مذاہب انسانیت سے محبت کا درس دیتے ہیں ،اس کے علاوہ ملحد بھی انسانیت کی بات کر تے ہیں اس کے باوجود دنیا میں انسانیت سسک رہی ہے ،اس کی آہوں کا شور ہے ،انسان ایک دوسرے پر ظلم وستم کر رہا ہے ،انسان ہی ظالم ،انسان ہی مظلوم ،انسان ہی انسان کا دوست ہے دشمن بھی ،انسان نے ہی اپنے جیسے انسانوں کی زندگی میں زہر گھولا ہوا ہے ۔انسان ہی دکھ دیتا ہے ،انسان ہی دکھ بانٹتا ہے ۔ایک بات بڑی حیران کن ہے سب انسان انسانیت کا دم بھرتے ہیں ،آپ مذاہب کو دیکھیں ،سول سوسائٹی ،سیکولرز ،این جی اوز دیکھیں ،ان کو دیکھیں جن کا کوئی مذہب نہیں ہے ،سب فلاح انسانیت کا راگ الاپتے ہیں ،فلاح انسانیت ان کا مقصد ہے اس کے باوجود بھوک ،پیاس سے بلکتے انسان دیکھے جا سکتے ،ظلم سہتے بے بس،مجبور انسان انسانیت کا ماتم کرتے دیکھے جا سکتے ہیں ۔
ان الفاظ پر توجہ دیں ہر لفظ پر ایک دفتر لکھا جا سکتا ہے ۔سب انسان جب انسانیت کا دم بھرتے ہیں تو لڑائی جھگڑے ، فسادات، فرقہ ورانہ دہشت گردی قتل و غارت لوٹ، کھسوٹ، کرپشن ،غربت کی لکیر ،وی، آئی پی پروٹو کول، بلٹ پروف سکیورٹی ،مہنگائی کاسمندر ،کھربوں کی جائیدادئیں ،معصوم بچے ،بچیوں کی آبروریزی ،نا انصافی ،قتل ، تھانہ ،کچہری ،جیل یہ سب کیا ہیں؟ انسان کا دشمن انسان ، انسان کو انسان سے ہی خطرہ ہے ۔
اب تک جتنے انسان انسانوں نے قتل کیے ان کا چوتھائی بھی قدرتی آفات سے نہیں مرے ،دنیا میں پہلا قتل بھی ایک انسان نے ایک انسان (عورت) کے لیے ایک انسان (بھائی ) کا کیا تھا ۔تب سے یہ سلسلہ چل رہا ہے ۔حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایاانسانوں پر ظلم نہ کرنے والا اللہ کا دوست ہے غصہ نہ کرنے والا، لوگوں کو معاف کردینے والا، لوگوں پر احسان کرنے والا، اللہ کومحبوب ہے کسی کے دکھ ، درد اور تکلیف کو صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس میں انسانیت ہو۔انسان کا انسان سے مقابلہ ہے انسان کا انسانیت سے مقابلہ ہے۔ انسان میں کب انسانیت نہیں ہوتی ،جب وہ خود کو دوسرے انسانوں سے اعلی خیال کرے ،غرور کرے ،تکبر کرے تو سمجھ لیں اس میں انسانیت نہیں رہی وہ جانور ہے بلکہ اس سے بھی بدتر ہے ۔اسلام میں تمام انسان برابر ہیں اور انسانوں کے ایک دوسرے پر حقوق و فرائض کو حقوق العباد سے جاناجاتا ہے ۔حقوق العباد کا مطلب اللہ کی خوش نودی کے لیے اللہ کی مخلوق کی خدمت ہے حقوق العباد میں والدین ،اولاد،ملازم ،پڑوسی ،مسافر،یعنی ہر ایک رشتہ انسانی کے حقوق شامل ہیں اسلام کا سب سے عظیم درس انسانیت کی بے لوث خدمت ہے جس میں نمود و نمائش نہ ہو یہ ایک مشکل کام ہے ۔اس میں چمک دمک نہیں ہے ،کسی کی خدمت ،مدد کر کے طعنے دینے کی اجازت نہیں ہے ،اس میں انا کو تسکین نہیں ملتی ہاں دلوں کو سکون ملتا ہے ۔ایسی خدمت ،مدد کو ہی انسان دوستی کہا جاتا ہے ۔یہ ہی توشہ آخرت اور کامیابی ہے ۔
انسانیت کاایک سنہری اصول جو تمام مذاہب اور فلسفیوں نے مختلف انداز میں بیان کیا مثلاََ حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایادوسروں کے لیے وہی کرو جو تم چاہتے ہو کہ دوسرے تمہارے ساتھ کریں۔”اور حضرت موسی علیہ السلام کا فرمان تم نہ بدلہ لو گے ، نہ ہی اپنے لوگوں کے بچوں کے خلاف کوئی نفرت اپنے دل میں رکھو گے ، تم اپنے ہمسائے سے محبت کرو گے جیسا کہ تم اپنے آپ سے کرتے ہو”اسی طرح رہبر انسانیت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا”دوسروں کو تکلیف نہ دو تاکہ دوسرے بھی تمہیں تکلیف نہ دیں۔”اور تم اس وقت تک کامل مسلمان نہیں بن سکتے جب تک جو اپنے لیے پسند کرتے ہو اسے دوسروں کے لیے پسند نہیں کرتے ،اور کسی کے والدین کو گالی نہ دو تاکہ کوئی تمہارے والدین کو گالی نہ دے ۔اس طرح کی اس مفہوم کی بے شماراحادیث ﷺ ہیں ۔