سول ملٹری تعلقات میں کوئی تقسیم نہیں، ترجمان پاک فوج

3

 ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ سول ملٹری تعلقات میں کوئی تقسیم نہیں جب کہ  ڈان لیکس رپورٹ حکومت کو منظر عام پر لانی ہے فوج کو نہیں۔

جی ایچ کیو راولپنڈی میں میڈیا بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 15 جولائی سے خیبر فور آپریشن کیا تھا جو آج مکمل کر لیا گیا ہے، آپریشن بہت مشکل تھا لیکن اس  دوران 253 کلومیٹر کا علاقہ کلیئر کرایا گیا۔ راجگال اور شوال میں ایک ایک دہشت گرد ہمارے نشانے پر تھا اور وہاں زمینی اہداف حاصل کر لئے گئے ہیں، آپریشن کے دوران 52 دہشت گرد ہلاک اور 31 زخمی، جبکہ 4 نے خود کو فورسز کے حوالے کیا، اس دوران 2 سپاہی شہید جب کہ  6 زخمی بھی ہوئے۔ خیبر فور آپریشن کیلیے افغان سیکیورٹی فورسز سے بھی تعاون لیا گیا، آپریشن کے دوران 152 بارودی سرنگیں ناکارہ بنادی گئی ہیں۔ آئی ای ڈی بنانے کے ایک مواد پر میڈ ان انڈیا کا لیبل چسپاں ہے۔

سول ملٹری تعلقات پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ  سول ملٹری تعلقات میں کوئی تقسیم نہیں، سویلین اور ملٹری میں کوئی تفریق نہیں، دونوں ایک ہیں، سویلین جس ماحول میں رہتے ہیں، وہاں سیاست ہے اور سیاسی سرگرمیوں سے فوج کا کوئی تعلق نہیں۔ کبھی اختلافات ہوبھی تواسے سول ملٹری تعلقات سے منسلک نہ کریں۔ فنکشنل معاملات میں اختلاف رائے تو خونی رشتوں میں بھی ہوتا ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ آپریشن ردالفساد کے تحت ملک بھر میں 3 ہزار 300 آپریشن کیےگئے،پنجاب میں انٹیلی جنس اطلاعات پر 1728 آپریشن کیے گئے، لاہور میں ارفع کریم ٹاور کے قریب حملہ آوروں کا ہدف وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔

فاٹا میں اصلاحات سے متعلق ترجمان پاک فوج نے کہا کہ فاٹا میں اصلاحات بہت ضروری ہیں لیکن سیاسی نظام میں اس کا طریقہ کارہوتاہے، وہاں کے لوگوں کو پاکستانی ہونے کا حق اور ان کو وہ تمام سہولیات ملنی چاہئیں جو ایک پاکستانی کا حق ہے، پاک فوج کے جانب سے اس سلسلے میں تجاویز حکومت کودی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی دہشت گرد تنظیم کا منظم نیٹ ورک نہیں، شمالی وزیرستان میں بلاامتیاز آپریشن کیا گیا، امریکی وفود کو واضح طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں  بلاامتیاز آپریشن کیے گئے ہیں اور امریکا کی افغان پالیسی سے متعلق دفتر خارجہ بیان جاری کرے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشن شروع ہوا تو فاٹا کے بہت سے لوگ آئی ڈی پیز بن گئے لیکن 95 فیصد آئی ڈی پیز اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں، قبائلی علاقوں میں کلیئرنس کے بعد ترقیاتی مرحلہ جاری ہے، اس مرحلے میں 147 اسکول ،17 ہیلتھ یونٹس اور 27 مساجد قائم کی گئی ہیں۔ فاٹا کے بہت سے کیڈٹس پاک فوج میں تربیت لے رہے ہیں، اس کے علاوہ وہاں کے نوجوانوں کی رجسٹریشن کی جائے گی۔

کراچی کے حوالے سے ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ کراچی میں رینجرزکےآپریشن سےدہشتگردی میں کمی ہوئی، 2017 میں کراچی میں دہشت گردی کا ایک واقعہ پیش آیا،پولیس مضبوط ہوگی تو اسٹریٹ کرائم میں وقت کےساتھ کمی آئے گی۔

پرویز مشرف سے متعلق میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پرویز مشرف پاک فوج کے سربراہ رہے ہیں، انہوں نے پاک فوج میں نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں لیکن اب انہیں ریٹائر ہوئے بھی کئی برس ہوگئے ہیں۔ سیاست  سے متعلق پرویز مشرف بیان بحیثیت سیاست دان دیتے ہیں۔ پرویزمشرف کا سیاسی لیڈر کے طور پر بیان ان کا اپنا نکتہ نظرہے، فوج سے متعلق بیان آرمی چیف ہی دے سکتے ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ راولپنڈی میں مسجد پر حملے کا نیٹ ورک پکڑا گیا، گرفتاردہشت گردوں کواین ڈی ایس اور”را” کی حمایت حاصل تھی، اس حملے میں اسی مسلک کے لوگ ملوث تھے، ان  کا مقصد ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دینا تھا۔ ہم متحد رہے تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

ڈان لیکس رپورٹ سے متعلق میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ چوہدری نثار وزیر داخلہ رہ چکے ہیں، ڈان لیکس انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کااختیار حکومت کا ہے، ڈان لیکس رپورٹ حکومت کو منظر عام پر لانی ہے فوج کو نہیں۔ حقائق جاننا عوام کا حق ہے، جو ڈان لیکس انکوائری منظرعام پر لانا چاہتا ہے وہ حکومت سے درخواست کرے۔

قومی پرچم کو نذر آتش کرنے کی وڈیو اور تصاویر سے متعلق میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان کا پرچم جلانےوالا پاکستانی نہیں اور کوئی بھی قومی پرچم کی توہین برداشت نہیں کرسکتا، سب جانتے ہیں کہ پرچم نذرآتش کرنے کے پیچھے کون ہے۔