کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جولائی میں 3 گناہ سے بھی زیادہ بڑھ گیا

6

پاکستان کے جاری کھاتے کا خسارہ رواں ماہ کے پہلے مہینے 2 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے.

جولائی 2017کے مہینے میں درپیش جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کے 7.2فیصد کے برابر رہا جو گزشتہ مالی سال کے پہلے مہینے میں صرف 66کروڑ20لاکھ ڈالر تک محدود اور جی ڈی پی کا 2.6فیصد تھا، نئے مالی سال کے آغاز پر ریکارڈ تجارتی خسارے نے ادائیگیوں کے توازن کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

درآمدات میں بے تحاشہ اضافے کے سبب گزشتہ مالی سال کے دوران ریکارڈ 12ارب ڈالر سے زائد خسارے کا سامنا کرنے کے بعد رواں مالی سال کے پہلے مہینے میں ہی خسارے کی مالیت گزشتہ مالی سال کے اوسط ماہانہ خسارے سے دگنی اور جولائی 2016 کے مقابلے میں 3گنا سے بھی زیادہ ہوچکی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ رواں مالی سال کے دوران سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ نہ ہوا تو جاری کھاتے کا خسارہ نئی بلند ترین سطح پر پہنچ کر ادائیگیوں کے بحران کو جنم دے سکتا ہے جس سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ایک بار پھر عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینا پڑے گا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی 2017کے مہینے میں جاری کھاتے کو 2ارب 5کروڑ 30 لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ جولائی 2016کے مہینے میں جاری کھاتے کا خسارہ 66کروڑ 20لاکھ ڈالر رہا تھا، اس لحاظ سے سال بہ سال خسارہ 1ارب 39کروڑ ڈالر زائد رہا، بیرونی قرضہ جات اور سود کی مد میں ادائیگیوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر درآمدات کے ساتھ ترسیلات میں محدود اضافہ اور برآمدات میں کمی جیسے عوامل جاری کھاتے کے خسارے کی بنیادی وجوہ ہیں، جولائی کے مہینے میں برآمدات کی مالیت 1 ارب 80کروڑ ڈالر جبکہ درآمدات کی مالیت 4ارب 70کروڑ ڈالر رہی، برآمدات کی شرح نمو 21فیصد جبکہ درآمدات کی شرح نمو 51فیصد رہی.

رواں مالی سال کے پہلے مہینے کے دوران اشیا کا تجارتی خسارہ بھی جولائی 2016کے مقابلے میں 1ارب 27کروڑ ڈالر کے اضافے سے 2ارب 88کروڑ 70لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا، اشیا و خدمات کی تجارت کا مجموعی خسارہ 1ارب 96کروڑ 20لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 3 ارب 37 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔ جولائی کے مہینے میں ترسیلات زر کی مالیت 21کروڑ 40لاکھ ڈالر کے اضافے کے ساتھ 1ارب 54کروڑ 20لاکھ ڈالر رہی، جاری کھاتے کے خسارے کے اثرات کو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے رجحان سے سمجھا جا سکتا ہے جس میں جون 2017سے اب تک 1ارب 50کروڑ ڈالر (6.8 فیصد) کمی واقع ہوچکی ہے جبکہ زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 13فیصد کمی کے بعد سال کی کم ترین مالیت 14ارب ڈالر کی سطح پر آچکے ہیں جو 3 ماہ کے درآمدی بل کی ادائیگی کے لیے کافی ہیں۔