جے آئی ٹی ارکان پر کسی اور کا کنٹرول تھا، خواجہ سعد رفیق

5

 پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا دعویٰ ہے کہ پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو کنٹرول کوئی اور کررہا تھا۔

لاہور میں پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ وہ یہ سوال کرتے رہیں گے کہ آخر تمام امتیازی فیصلے صرف نواز شریف اور ان کے خاندان کے لیے کیوں ہوتے ہیں۔ یہ تاثردیاجا رہا ہے کہ شریف خاندان نیب میں پیش نہیں ہو رہا،ایک غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء تھے لیکن کنٹرول کسی اور کا تھا۔ این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں امیدوار تبدیل کرنے کا ابھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔  نوازشریف کے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان چند دن میں کیا جائے گا، ہمیں ملک کو تقسیم کرنےسےبچنا چاہئے، مخالفین نے کرپشن اور منی لانڈرنگ کاایک بھی ثبوت نہیں پیش کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا کہ واجد ضیاء نے اپنے پورے کیریئر میں کبھی کسی میاں بیوی کےجھگڑے کی تحقیق نہیں کی، اس مقدمے کے لیے ایک الگ سے مانٹیرنگ جج قائم کیا گیاہے،جس کا نتیجہ پہلے ہی آگیا ہواس انویسٹی گیشن میں پیش ہونے سے کچھ حاصل نہیں ہے،ایسی انکوائری جس کا ابھی آغاز ہونا ہے اس کے نتیجے کا اعلان پہلے ہی ہوچکاہے۔نوازشریف کو آئینی یا بنیادی حقوق نہ دینا ایک فرد کو نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کو حق دینے سے انکار ہے۔

اس موقع پر وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ نیب کے نوٹس پر کوئی جواب نہ دیا گیا ہو، نیب نے جب کبھی نوٹس بھیجا ہے اس کا تحریری جواب جاتا رہا ہے، ادارے کو حکم دیا گیا ہے کہ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، نظرثانی کی اپیل عدالت عظمیٰ میں دائرکی جاچکی ہے۔