قومی سلامتی کمیٹی نے امریکی الزامات مسترد کردیے

10

قومی سلامتی کمیٹی نے امریکی صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات کو مسترد کرتے ہوئے امریکی پالیسی پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس 5 گھنٹے تک جاری رہا جس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، قومی سلامتی کمیٹی کےارکان، وزیر دفاع، وزیر خارجہ، وزیرخزانہ، اور وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے شرکا نےامریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے امریکی پالیسی پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کا فیصلہ کیا۔

اجلاس میں دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی بے لوث کوششوں کو عالمی برادری کے سامنے اجاگر کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ قومی سلامتی کمیٹی میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے پاکستان کی کوششوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ،  پاکستان عالمی کوششوں کا حصہ ہے اور یہاں  دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں نہیں۔

اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ پاکستان نے افغانستان سمیت خطےمیں امن کیلیے بڑی قربانیاں دی ہیں اور دہشتگردی وانتہاپسندی کے خاتمہ کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کیے جارہے ہیں، جب کہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال نہ کرنےکےعزم پرقائم ہیں۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاک افغان پالیسی پر موثر ردعمل اور جوابی حکمت عملی تشکیل دینے پرغور کیا گیا۔ وزیراعظم نے شرکا کو حالیہ دورہ سعودی عرب پر اعتماد میں لیا جبکہ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کے دورہ چین کے دوران چینی حکام سے ملاقاتوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔