وزراء کس قانون کے تحت کہہ سکتے ہیں کہ شریف فیملی نیب میں پیش نہیں ہو گی؟

6

تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ  (ن) لیگی وزیر کیسے یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ شریف خاندان نیب میں پیش نہیں ہوگا جب کہ کون سا قانون انہیں اس من مانی اور خود سر رویے کی اجازت دیتا ہے۔

سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا تھا کہ روز اول سے اہم نکتہ اٹھا رہا ہوں کہ (ن) لیگی وزیر کیسے یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ شریف خاندان نیب میں پیش نہیں ہوگا، کون سا قانون انہیں اس من مانی اور خود سر رویے کی اجازت دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ وہ خود اپنی تحقیقات کے لیے اپنی مرضی کا طریقہ منتخب کریں، شریف خاندان یہ بھول چکا ہے کہ وہ ملزم ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کا اختیار سپریم کورٹ کو حاصل ہے، (ن) لیگ کو عدالتی حکم نامے پر نظر ثانی کا اختیار کس نے دیا جب کہ سپریم کورٹ نے تو نظرثانی کیلئے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی، سپریم کورٹ کا نظرثانی کی اپیل سماعت کے لیے مقرر نہ کرنا حقیقت میں حکم امتناع دینے سے انکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب کے پاس اپنے دوہرے معیار اور دوغلے پن کا کیا جواز ہے، کیا نیب کرپشن، منی لانڈرنگ، اثاثے چھپانے، ٹیکس چوری جیسے جرائم میں ملوث افراد سے ایسا برتاؤ ہی کرتی ہے جیسے وہ شریف خاندان سے پیش آرہی ہے۔

اس سے قبل اپنے وڈیو پیغام میں عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ کل جمعتہ المبارک کے روزسکھرآرہے ہیں، انہوں نے سندھ کے عوام کو کل سکھر آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے انتہائی محنت سے “پاناما کیس” کی پیروی کی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کہا کہ سندھ کے گھمبیر مسائل سے ہم بخوبی واقف ہیں، پاناما کے بعد اب سندھ کے حالات میں بہتری کے لئے محنت کرنا ہوگی جب کہ 25 اگست کو آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے کہ سندھ کے حالات میں بہتری کیسے ممکن ہے۔