شریف برادران کے عدلیہ مخالف بیانات نشرکرنے پر پابندی عائد

7

ہائی کورٹ نے شریف برادران اور وزیراعظم سمیت 16 اراکین اسمبلی کے عدلیہ مخالف بیانات میڈیا پر نشر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

فلک نیوز کے مطابق لاہورکورٹ میں اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی درخواست پر کیس کی سماعت جسٹس مامون الرشید نےکی۔  اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے اپنی درخواست میں ستدعا کی تھی کہ شریف برادران سمیت 16 اراکین اسمبلی عدلیہ مخالف بیانات دے رہے ہیں، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ نواز شریف نے ریلی کے دوران سپریم کورٹ کے ججز کی تضحیک کی، نواز شریف کی تقاریر آئین کے خلاف کھلی بغاوت ہے، آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت نوازشریف کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے اور  ان کے بیانات کو میڈیا پر نشر کرنے سے روکے۔

اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ نوازشریف اب وزیراعظم اور پارٹی سربراہ نہیں رہے، پیمرا اور وزارت اطلاعات کو متعدد بار درخواست کی مگر شنوائی نہیں ہوئی جب کہ آئین پرعمل درآمد کرانے کے لئے عدالت آیا ہوں۔

عدالت نے چئیرمین پیمرا اور چیرمین کونسل آف کمپلینٹس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے شریف برادران، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر اراکین اسمبلی کے عدلیہ مخالف تقاریر میڈیا پر نشر کرنے سے روکتے ہوئے سماعت 12 ستمبر تک ملتوی کردی