کینسر کے متبادل اسپتال نہ ہونے کے باعث کلثوم نواز کو بیرون ملک جانا پڑا، عمران خان

8

چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ شریف خاندان کے 30 سالہ دور میں کینسر کا کوئی اسپتال نہیں بنایا گیا جس کی وجہ سے کلثوم نواز کو اپنے علاج کے لئے بیرون ملک جانا پڑا۔ 

لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ دنیا میں جنگوں کے دوران بھی اسپتالوں پر حملے نہیں ہوتے لیکن سمجھ نہیں آتی سیاسی مخالفین بالخصوص (ن) لیگ کے وزرا کینسر کے خیراتی اسپتال پر کیوں حملے کرتے ہیں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اسپتال کے مالی معاملات میں کرپشن ہوئی ہے تو اسپتال کے اکاونٹس آن لائن ہیں حکومت (ن) لیگ کے پاس ہے سب سے پہلے مجھے جیل میں ڈالیں اور تحقیقات کرائی جائیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کے 30 سالہ دور حکومت میں ایک بھی ایسا اسپتال نہیں بنایا گیا جہاں کینسر کے موذی مرض میں مبتلا بے سہارا اور غریب افراد کا مفت علاج ہوتا ہو، کینسر کے علاج کے لیے متبادل ادارے نہ بننے کی وجہ سے ہی آج بیگم کلثوم نواز شریف کو بیرون ملک علاج کے لئے جانا پڑا، میری دعا ہے کہ وہ جلد صحت یات ہوں اور اپنے ملک میں آئیں۔

چیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ شوکت خانم میں 75 فیصد مریضوں کا علاج بالکل مفت ہوتا ہے اور اس کا سالانہ خسارہ 500 کروڑ ہے لیکن پاکستانی عوام اس خسارے کو پورا کر رہی ہے اور دوسری جانب حکومتی ادارے ایک خیراتی ادارے کے لئے مشکلات پیدا کررہی ہے اور حکومتی وزرا  خیراتی اسپتال پر تنقید کرکے اپنی سیاست چمکا رہے ہیں، میری گزارش ہے کہ حکومتی وزرا بے سہارا اور غریب عوام کے لئے بنائے گئے ادارے پر تنقید نہ کریں یہ میری ذاتی فیکٹری نہیں بلکہ ایک اسپتال ہے۔