آسمانی بجلی کیسے بنتی ہے اور کیونکر گرتی ہے؟

14

آسمانی بجلی قدرت کا ایک عجیب و غریب مظہر ہے جس کا ہم آئے دن مشاہدہ کرتے رہتے ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آسمانی بجلی کا ایک کوندا (کڑاکا) فضا میں 8 سے 20 ہزار درجے سینٹی گریڈ تک حرارت پیدا کرتا ہے جو سورج کی سطح پر پائی جانے والی حرارت سے بھی کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔

بادلوں میں بجلی کیسے بنتی ہے؟

آسمانی بجلی اونچے بادلوں میں پیدا ہوتی ہے جنہیں کیومولونمبس بادل کہا جاتا ہے۔ آسمانی بجلی برق سکونی کی ایک مثال ہے جس کا ہم عام مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔ اگر اونی سویٹر یا بالوں سے پلاسٹک کا ایک ٹکڑا رگڑا جائے تو وہ دھاگے اور کاغذ کے ٹکڑوں کو اپنی جانب کشش کرتا ہے جو برقِ سکونی (اسٹیٹک الیکٹریسٹی) کی ایک مثال بھی ہے۔بارش کے دوران بادل میں پانی کے قطرے انتہائی سرد ہو کر برفیلے ذرات میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور بارش برسنے سے بادل کے اوپری حصے پر مثبت چارج آ جاتا ہے جبکہ بادل کے نچلے حصے پر منفی چارج بنتا ہے۔ جب یہ چارج ایک خاص سطح تک پہنچ جائے تو برقِ سکونی کی وجہ سے بجلی نیچے کی جانب سفر کرتی ہے۔

عموماً بجلی بادل کے اندر، ایک بادل سے دوسرے بادل  اور پھر دوسرے بادل سے زمین پر سفر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ آسمانی بجلی کو ظاہری طور پر دو اہم اقسام میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ جب آسمان پر کیمرے کے فلیش کی طرح روشنی دکھائی دے تو اسے چادر والی بجلی (شیٹ لائٹننگ) کہا جاتا ہے جبکہ دوسری قسم میں آسمان پر بجلی ٹیڑھی میڑھی لکیروں کی طرح دکھائی دے تو اسے دراڑ نما بجلی یا فورک لائٹننگ کہا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ شاخوں کی طرح کی دراڑ نما آسمانی بجلی بادل سے زمین کی جانب سفر کرتے ہوئے پیدا ہوتی ہے اور بسا اوقات زمین پر گر جاتی ہے۔ جب اس طرح کی آسمانی بجلی پیدا ہوتی ہے تو اس کی توانائی سے اطراف کی ہوا بہت گرم ہو کر پھیلتی ہے جس سے ایک زوردار دھماکہ سنائی دیتا ہے جسے بادلوں کی گرج سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔

ہماری زمین پر موجود اشیا پر عموماً مثبت چارج ہوتا ہے اور یوں بجلی کا کڑاکا زمین کی جانب لپکنے کی کوشش کرتا ہے جسے زمین پر بجلی گرنا کہتے ہیں۔ اس سے جنگلات میں آگ لگ جاتی ہے اور لوگ اور جانور جل کر راکھ ہو جاتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت میں آسمانی بجلی گرنے کے حوالے سے عوام میں کئی توہمات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً گھر کا پہلا بچہ اس کا زیادہ شکار ہوتا ہے تو دوسری جانب بزرگ ہمیں سیاہ کپڑے پہننے سے منع کرتے ہیں لیکن ان دونوں باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔ ماہرین موسمیات اس قسم کے توہمات کو رد کرتے ہیں اور انہیں محض واہمہ ہی تسلیم کرتے ہیں۔

البتہ ضروری ہے کہ آسمانی بجلی سے بچنے کی اہم تدابیر کو ضرور اپنایا جائے جن میں بعض درج ذیل ہیں۔

1: کوشش کیجئے کہ ہاتھ میں فون نہ ہو، اسی طرح گھر کی ٹیلیفون لائن اور تاروں سے دور رہیں کیونکہ دھات، سرکٹ مکمل کرکے بجلی گزارنے میں مددگار ہوتی ہے۔

2: اسی طرح بجلی سے چلنے والے دیگر آلات سے بھی دور رہیں لیکن خیال رہے کہ صرف امریکا میں سالانہ لاکھوں کروڑوں مرتبہ بجلی گرنے کے واقعات پیش آتے ہیں یعنی آسمانی بجلی گرنے سے ضروری نہیں کہ لوگ ہلاک ہوں۔

3: امریکا میں گالفر اور مچھیروں پر بجلی گرنے کے زیادہ واقعات رونما ہوئے ہیں شاید اس کی وجہ گالف کی دھاتی چھڑی اور پانی میں بجلی گزرنے کی قدرتی صلاحیت کا ہونا ہے۔ اس لیے کھلے میدان میں جانے اور پانی سے دور رہیں۔

4: اگر آسمان پر بجلی کڑک رہی ہے تو درخت کے نیچے کھڑے ہونے سے گریز کیجئے کیونکہ درختوں پر آسمانی بجلی گر سکتی ہے۔

5: اسی طرح لوہے اور فولاد کے جنگلوں اور دھاتی پائپوں سے بھی دور رہیں۔