پاور پلانٹس کی پیداوار میں کمی، قومی خزانے کو 28 ارب کا نقصان

14

 ملک میں طلب کے باوجود بجلی پیدا کرنیوالے پلانٹس کو ان کی پوری استعداد کے مطابق نہ چلانے سے قومی خزانے کو28 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا جبکہ صارفین کو8 سے 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا۔

آڈٹ دستاویز کے مطابق فرنس آئل سے چلنے والے آئی پی پیز اور سرکاری پاور پلانٹس کوبھی ان کی پوری صلاحیت کے مطابق نہیں چلایا گیا حالانکہ پلانٹ چلانے کے لیے فرنس آئل کی دست یابی سمیت کوئی رکاوٹ نہیں تھی، فرنس آئل کی قیمتیں بھی کافی کم رہیں تاہم اس سے بھی کوئی خاطرخواہ فائدہ نہیں اٹھایا گیا اور ٹیک اینڈپے ایگریمنٹ کی مدمیں ادائیگیوں کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔واضح رہے کہ صرف آئی پی پیز کو پوری صلاحیت پر نہ چلانے سے خزانے کو23 ارب 86 کروڑروپے، سینٹرل پاور جنریشن کمپنی کو ایک ارب 40 کروڑ، جام شورو پاورکمپنی کوایک ارب اورناردرن پاورجنریشن کمپنی کو ایک ارب 87 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، یہ نقصانات 3 سال تک پاور پلانٹس کو کم صلاحیت پر چلانے کی وجہ سے ہوئے۔ آڈٹ دستاویز کے مطابق پاور پلانٹس کوکم صلاحیت پرچلانے سے این ٹی ڈی سی کے فی یونٹ ویلنگ چارجزکی شرح میں بھی اضافہ ہوا، بجلی پیدا کرنے والی تمام آئی پی پیز اور پیداواری کمپنیاں ٹیک اینڈ پے بنیادوں پر سینٹرل پاورپرچیزنگ ایجنسی کوبجلی فراہم کرتی ہیں، سی پی پی اے پاورپلانٹس سے بجلی خریدنے کی پابندہے تاہم اگروہ دستیاب بجلی نہیں خریدتی توبجلی خریدنے والے کو کیپیسٹی چارجز ادا کرنے پڑتے ہیں۔

نیپرا نے کمپنیوں کے خلاف کارروائی کے بجائے ان کا دفاع کرتے ہوئے موقف اختیار کیاکہ پلانٹس کوکم صلاحیت پرچلانے کی کئی وجوہ میں معمول کی مرمت، سسٹم کی کم طلب، بجلی کی تقسیم اورترسیل کے نظام کی مشکلات اور ایندھن کی عدم دست یابی شامل ہیں۔ نیپرا نے 2002 کی پالیسی کے تحت کیپسیٹی چارجز کا دفاع کرنے کی کوشش کی۔

آڈٹ حکام نے سفارش کی ہے کہ اس معاملے کی انکوائری کرکے ذمے داروں کا تعین اور ان کے خلاف ایکشن لیاجائے۔ اس سلسلے میں چیئرمین نیپرا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو انھوں نے ٹیلیفون کالز اور ٹیکسٹ میسج کا جواب نہیں دیا جبکہ رجسٹرار نیپرا کا نمبر بھی مسلسل بند رہا۔