کھوپڑی کی کھال سے گنج پن کا علاج دریافت

7

سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ سر کی کھال میں موجود وہ خلیے جو بیماریوں اور تکالیف سے بچاتے ہیں وہی خلیات بالوں کی نشوونما بہتر بنانے میں بھی خصوصی کردار ادا کرتے ہیں۔

امریکی ماہرین نے چوہوں پر کیے گئے ایک مطالعے میں دریافت کیا ہے کہ امنیاتی نظام (امیون سسٹم) سے تعلق رکھنے والے ’’ٹی سیلز‘‘ (T-Cells) جو سر کی کھال میں موجود ہوتے ہیں، وہ نہ صرف حملہ آور ہونے والے جرثوموں اور وائرسوں کا قلع قمع کرتے ہیں بلکہ وہاں پائے جانے والے اُن خلیاتِ ساق (Stem cells) کو بھی تقویت پہنچاتے ہیں جو بالوں کی نشوونما بہتر بناتے ہیں یعنی وہ خلیاتِ ساق جن کی بہتر کارکردگی کی وجہ سے سر پر بال گھنے اور لمبے ہوتے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو میں اس تحقیق کے سربراہ مائیکل روزنبلم کا کہنا ہے کہ جن چوہوں کا مطالعہ کیا گیا اُن میں بالوں کا قدرتی نظام انسان سے بہت قریب ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ کم و بیش یہی سب کچھ انسانوں کےلیے بھی درست ہونا چاہیے۔ البتہ اس کی مزید تصدیق کرنے کےلیے انسانی بالوں اور کھوپڑی کی کھال کا تحقیقی جائزہ لینا بھی ضروری ہوگا۔

اگر مزید تحقیق سے یہی بات انسانوں کےلیے بھی درست ثابت ہوگئی تو گنج پن اور گرتے ہوئے بالوں کا علاج بھی ممکن ہوسکے گا۔ اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’سیل‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔