احتساب پاناما پر ختم ہوگیا تو یہ احتساب کی موت ہے، شہباز شریف

11

وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اگر احتساب پاناما پر ختم ہوگیا تو یہ احتساب کی موت ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ یہ منصب پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کی مالا ہے، میں نے ایک مزدور اور خادم کی طرح اس قوم کی خدمت کی ہے، ہم جعلی ادویات کاخاتمہ کر کے مریضوں کو بہترین دوائیں دے رہے ہیں، ہم نے کسانوں کو سستی کھاد اور آسان قرضے دیے، جس کی وجہ سے لاکھوں خاندان آج خود اپنا بوجھ برداشت کرنے کے قابل ہوچکے ہیں، ملک میں لوڈ شیڈنگ میں بہت بڑی کمی آئی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ یہ قرض خوروں اور قبضہ مافیا کا نہیں 21 کروڑ عظیم پاکستانیوں کا ملک ہے، گندی سوچ کے باعث دوست ممالک کو بھی نہیں بخشا جارہا، ملتان میٹرو بس منصوبے کے حوالے سے غلط بیانی کی جارہی ہے، پنجاب حکومت اور مجھ پر 3 ارب روپے کی رشوت لینے کا بےبنیاد الزام لگایا گیا ہے، مجھ پر الزامات کے پیچھے اربوں روپے کی زمینوں پر قبضہ کرنے والے ہیں۔ میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگا، ایک دھیلےکی کرپشن ثابت ہوجائے تو قوم کا ہاتھ اور میرا گریبان ہوگا۔شہباز شریف نے کہا کہ الزامات لگانے والے قائداعظم کی روح کو تڑپا رہے ہیں، میٹرو بس کے مختلف پیکجز میں 9 کنٹریکٹرز تھے، کیپٹل انجینئرنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام سے جس کمپنی کا نام لیا جارہا ہے اس کا کوئی وجود ہی نہیں، نا تو ایسی کوئی کمپنی رجسٹرڈ ہے اور نا ہی اس کا کوئی بینک ریکارڈ ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ این آئی سی ایل میں اربوں روپے کی ڈاکہ زنی کی گئی اس پر کوئی بات نہیں کرتا، احتساب بلا امتیاز، کڑا اور شفاف ہونا چاہیے، آصف زرداری  نے 60 ملین ڈالر لوٹے اور وہ صدرکےاستثنیٰ میں رہ کر ہضم کرجائیں،کیایہ احتساب ہے۔ پاناما میں جن سیاستدانوں کے نام آئے ان کا احتساب کہاں گیا، یہ لمحہ فکریہ ہے، اگر احتساب پاناما پر ختم ہوگیا تو یہ احتساب کی موت ہے۔ پاناما کیس میں عدالتی فیصلے پر نواز شریف گھر چلے گئے، انہیں سزا پاناما نہیں اقامہ پر ملی، نواز شریف نے اپنا سیاسی مقدمہ عوام کےسامنے رکھ دیا ہے۔

تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ رپورٹ میں کہا گیا کہ نندی پوری پاور منصوبے میں بابر اعوان ملوث ہیں، آج وہی 62 اور 63 کو ثابت کرنے کے لیے پی ٹی آئی میں شامل ہیں، عمران خان اتنے بھولے نہ بنیں، کچھ ہوش سے باتیں کریں، اپنے گریبان میں جھانکیں اور اللہ سے معافی مانگیں۔ جہانگیر ترین نے قرضےمعاف کرائے اور لندن میں جائیدادیں بنائیں، ان پر ہتک عزت کا دعویٰ کیا لیکن وہ بھی عدالت نہیں آتے۔ الزام لگانے والے ثبوت دیں ورنہ منہ بند کریں۔ 48 گھنٹے میں ثبوت لائے گئے تو قوم میری گردن اڑا دے، اگرثبوت نہیں آئےتوقوم الزام لگانےوالوں کا محاسبہ کرے۔