دیوارِ چین کی بنیادوں میں کون دفن ہے؟

12

لاہور(فلک نیوز) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے تقریباً دو سو سال پہلے چین کے بادشاہ چن شی ہوانگ نے اپنے ملک کو دشمنوں کے حملوں سے محفوظ کرنے کے لیے شمالی سرحد پر ایک دیوار بنانے کی خواہش کی،  اس دیوار کی ابتدا چین اور منچوکو کی سرحد کے پاس سے کی گئی،  چین کے دشمن اس زمانے میں “ہن” اور “تاتار” تھے جو وسط ایشیا میں کافی طاقتور سمجھے جاتے تھے۔  دیوار چین سے متعلق  وہ دلچسپ حقائق جو آپ اس سے قبل نہیں جانتے ہونگے

٭ یہ دیوار خلیج لیاؤتنگ سےمنگولیا اور تبت کے سرحدی علاقے تک پھیلی ہوئی ہے۔

٭ اس کی لمبائی تقریباًًً پندرہ سو میل ہے اور یہ بیس سے لے کر تیس فٹ تک اونچی ہے ، چوڑائی نیچے سے پچیس فٹ اور اوپر سے بارہ فٹ کے قریب ہے ۔

٭ہر دو سو گز کے فاصلے پر پہریداروں کے لیے مضبوط پناہ گاہیں بنی ہوئی ہیں۔

٭ابتدائی طور پر قن، یاؤ اور یان سلطنت کی دیواروں کو ملا کر ایک بڑی دیوار بنائی گئی جو کہ پانچ ہزار کلومیٹر طویل تھی۔ اس کے بعد اگلے دو ہزار سال کے دوران مختلف شہنشاہوں کے عہد میں اس دیوار کی مضبوطی اور لمبائی میں اضافہ کیا جاتا رہا۔

٭ آج نظر آنے والی دیوارِ چین کا بڑا حصہ منگ سلطنت (1368ءسے 1644ء) میں تعمیر کیا گیا،  اگرچہ قدیم دور میں اس دیوار کا مقصد چین کو سلطنت منگولیہ کے حملوں سے بچانا تھا۔

٭چین کی بڑی دیوار مٹی اور پتھر سے بنی ایک كلےنما دیوار ہے جسے چین کے مختلف حکمرانوں کی طرف سے شمالی حملہ آوروں سے دفاع کے لئے پانچویں صدی قبل مسیح سے لے کر سولهویں صدی عیسوی تک تعمیر کیا گیا تھا۔

٭اس دیوار کی عظمت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انسانی ہاتھ کی کاریگری سے بنی اس عظیم دیوار کوخلا سے بھی دیکھا جا سکتا ہے، انیسویں صدی کے بعد آنے والے سیاحوں نے اس کے بارے میں غلط افواہیں مشہور کر دیں کہ دیوار چین کو چاند یا مریخ پر جا کے بهی دیکها جا سکتا ہے۔

٭1856ء سے لے کر 1860ء تک چین کی مغربی ممالک سے دوسری جنگ کے بعد جب چینیوں نے تجارت اور سیاحوں کی آمدورفت کے لئے اپنے بارڈر کهول دیے تو چین کی یہ عظیم دیوار سیر و تفریح کے لیے سب سے انوکها اور پرکشش مقام ہوا کرتا تها۔

٭یہ دیوار  6،400 کلومیٹر (10،000 لی، چینی لمبائی کی پیمائش یونٹ) کے علاقے میں پھیلی ہے ، اس توسیع سابق میں شانهاگان سے مغرب میں لپ نر تک ہے، اور کل لمبائی تقریبا 6700 کلومیٹر (4160 میل) ہے۔

٭چین عظیم دیوار کی لمبائی 7.6 میٹر ( 26 فٹ ) اور چوڑائی 5 میٹر سے زیادہ تقریباً ( 16 فٹ ) ہے۔تاہم آرکیالوجیکل سروے کے حالیہ سروے کے مطابق مجموعی طور پر عظیم دیوار، اپنی تمام شاخوں سمیت 8،851.8 کلومیٹر (5،500.3 میل) تک پھیلی ہے۔

٭منگول خاندان کی حفاظت کے لئے دس لاکھ سے زیادہ لوگ اس دیوار پر مقرر تھے۔

٭یہ متوقع ہے کہ عظیم دیوار کے منصوبے میں تقریبا 20 سے 30 لاکھ لوگوں نے اپنی زندگی اسے تعمیر کرنے میں لگا دی تھی،ایسی بہت سی باتیں مشہور ہیں کہ فاتحین نے لاکهوں لوگوں کو اس دیوار میں دفن کیا یا چینی حکمرانوں کی توہم پرستی کہ باعث بچوں کی بهینٹ دیوتا کی نظر کی جاتی تهی اور انسانی ہڈیاں پیس کر ان سے اینٹیں تیار کی جاتی تهی تا کہ دیوار مضبوط اور قائم رہے، لیکن یہ سب افواہیں ہیں،  ابهی تک کسی دیوار کی بنیاد میں انسانی ہڈیاں نہیں ملی ہیں، بنیاد میں بهی چاول کے آٹے سے بنی ہوئی اینٹیں ملی ہیں۔

٭ البتہ دیوار سے ملحقہ علاقے میں ہلاک ہونے والے مزدوروں کی قبریں ضرور ہیں، ان میں سے کچھ دیواریں 700 سال قبل مسیح تعمیر کی گئی تهی جنہیں بعد میں آپس میں جوڑ دیا گیا، جنگجو حملہ آوروں سے بچاؤ کے علاوہ دیوار بنانے کے دیگر مقاصد میں ملک کا بارڈر یا حدود مقرر کرنا اور تجارتی اغراض و مقاصد کے لئے ذرائع نقل و حمل کی نگرانی کرنا شامل تهے۔

٭دیوار پر نگرانی کے لئے فوجی دستوں کے لئے مینار، فوجی بیرک اور خوراک کے گودام بهی بنائے گئے تهے۔ سپاہی ایک چوکی سے دوسری چوکی تک دهوئیں اور آگ سے ایک دوسرے کو مخصوص پیغام بهیجتے تهے۔

٭اس دیوار کو چائینیز زبان کی 100 سال قبل مسیح کی قدیم تحریر میں چانگ چنگ لکها گیا ہے جس کے معنی ( لمبی دیوار)کے ہیں۔19ء صدی عیسوی میں جب مغربی ممالک علاقے فتوحات کرتے ہوئے چین پہنچے تو انہوں نے اس کا نام “عظیم دیوار چین” رکها۔اس دیوار پر 25,000 کے قریب نگرانی کے مینار موجود ہیں۔

٭ منگولوں کے آنے کی خبر سن کر 1,200 نئے فوجی نگرانی کے مینار تعمیر کروائے گئے تهے،چین میں ریاست کی حفاظت کرنے کے لئے دیوار بنانے کی شروعات ہوئی آٹھویں صدی عیسوی میں جس وقت کی (Qi)، یان (Yan) اور زاهو (Zhao) ریاستوں نے تیر اور تلواروں کے حملے سے بچنے کے لئے مٹی اور پتھر کے میٹیریل کی مضبوط اینٹیں تیار کی گئیں جس سے دیوار کی تعمیر کی گئی۔

٭دیوار بنانے کے مواد کو حدود تک لے جانا ایک مشکل کام تھا اس لئے مزدوروں نے مقامی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے پہاڑوں کے قریب پتھر کی اور میدانوں کے قریب مٹی اور پتھر کی دیوار تعمیر کی۔

٭ماضی میں مختلف سلطنت جیسے ہان، انجکشن، شمالی اور جنہوں نے دیوار کی وقت وقت پر مرمت کروائی اور ضرورت کے مطابق دیوار کو مختلف ہدایات دے کر استوار کیا اور لمبائی میں اضافہ کیا گیا۔

٭آج یہ دیوار دنیا میں چین کا نام بلند کرتی ہے، اور يونیسكو کی طرف سے 1987ء سے اس