روک لو!

10
دو ہزار آٹھ میں جب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو حاجی غلام احمد بلور اس میں عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے وفاقی وزیر برائے بلدیات کے طور پر شامل تھے۔ ان دنوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن عارضی جنگ بندی کے بعد دوبارہ متحارب ہونے کے لیے اپنی صفیں سیدھی کر رہی تھیں۔ ان دونوں جماعتوں کی کشمکش پر اسمبلی میں موجودہ چھوٹی سیاسی جماعتیں بھی نظر رکھے ہوئے تھیں‘ اور عوامی نیشنل پارٹی بھی گومگو کی کیفیت میں تھی کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت میں رہے‘ یا اسے چھوڑ کر ن لیگ کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھ جائے۔ جب عوامی نیشنل پارٹی کے اندر اس معاملے پر غور و خوض ہو رہا تھا تو مجھے پتا چلا کہ حاجی غلام احمد بلور نہ صرف اپنی جماعت کے سربراہ اسفند یار ولی خان کو بڑی محنت سے نواز شریف کا ساتھ دینے پر قائل کر رہے ہیں‘ بلکہ اس مقصد کے لیے اے این پی کے اندر لابی بنانے کی بھی کوشش میں ہیں۔ اتفاق سے میں اس وقت اسلام آباد میں تھا۔ میں نے حاجی صاحب کو فون کیا‘ اور ظہر کے وقت ان کے دفتر پہنچ گیا۔ حاجی صاحب لمبے لمبے رکوع و سجود کے ساتھ نماز کی ادائیگی اور ایک طویل دعا مانگنے کے بعد فارغ ہوئے تو میں نے سرسری انداز میں پوچھا کہ کیا آپ واقعی اے این پی کو نواز شریف کے کیمپ میں لانے کے لیے کام کر رہے ہیں؟ میری توقع کے برعکس انہوں نے واضح لفظوں میں نہ صرف میری معلومات کی تصدیق کی بلکہ یہ بھی کہا کہ یہ کام وہ اپنی پارٹی کے مفاد میں نہیں‘ بلکہ پاکستان کے مفاد میں کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے ان سے وضاحت چاہی‘ تو حاجی غلام احمد بلور بولے، ”نواز شریف کو اگر ہم نے اکیلا چھوڑ دیا تو ملک کے سارے بنیاد پرست اس کے گرد اکٹھے ہو جائیں گے اور وہ اس کی سیاسی قوت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ نواز شریف کے ارد گرد ہم جیسے لوگ ہوں‘ جو اسے اعتدا ل کے راستے سے نہ ہٹنے دیں۔ اگر ایک دفعہ نواز شریف اس راستے سے ہٹ گیا تو میں آپ کو بتا دوں، پاکستان کو سنبھالنا بہت مشکل ہو جائے گا‘‘۔ 
غلام احمد بلور کی یہ بات مجھے نو سال بعد اس دن یاد آئی‘ جب عدالت سے نااہلی کے بعد پنجاب ہاؤس کے ایک کمرے میں بیٹھ کر نواز شریف کہہ رہے تھے، ”ستر سال بعد بھی اس ملک میں ایک بھی وزیر اعظم اپنی مدت پوری نہ کر سکے مگر ڈکٹیٹر اپنی مرضی سے آئیں جائیں، اب یہ نہیں ہو گا‘‘۔ صاف لگ رہا تھا کہ وہ اپنے لہجے کی تلخی پر قابو پانے کی سخت کوشش کر رہے ہیں‘ مگر ہر چند جملوں کے بعد وہ کوئی ایسا لفظ استعمال کر دیتے جو ان کے خیالات کی تلخی ظاہر کر دیتا تھا۔ ہم سب صحافی ان کی نااہلی کے بارے میں واقعاتی باتیں سننا چاہتے تھے مگر نواز شریف جمہوری اصولوں پر گفتگو کر رہے تھے۔ ہم سب نے ایک ایک کرکے واقعات کے بارے میں سوال کیے مگر وہ جواب دیتے ہوئے واقعہ نظر انداز کر دیتے اور بات پھر اصولوں کی طرف لے جاتے۔ وہ اپنی نااہلی کو انیس سو ننانوے میں جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء سے ملا کر دیکھ رہے تھے‘ اور قائل کرنے کی کوشش بھی کر رہے تھے کہ ان نااہلی کو اسی انداز میں دیکھا جائے۔ ان کے لہجے سے وہاں موجود ہر شخص کو اندازہ ہو رہا تھا کہ نواز شریف جتنے بے چین بظاہر نظر آ رہے ہیں، درحقیقت اس سے کہیں زیادہ بے چین ہیں۔ گزشتہ دس برسوں میں وہ ہمیشہ نظام کی مضبوطی اور بقا کی بات کرتے نظر آئے تھے، اس روز پہلی بار وہ سسٹم کی بجائے اس سپر سسٹم کی بات کر رہے تھے جس کے خلاف اب وہ جدوجہد کی تیاریوں میں تھے۔ اسی ملاقات میں انہوں نے یہ بھی کھل کر بتا دیا کہ شاہد خاقان عباسی دو ہزار اٹھارہ تک وزیر اعظم رہیں گے‘ اور شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔
شہباز شریف کو وزیر اعظم نہ بنانے کی ہزاروں سیاسی وجوہات ہو سکتی ہیں، مگر اس فیصلے کی بنیادی وجہ صرف یہی ہے کہ نواز شریف کے خیال میں ان کے چھوٹے بھائی اس نظام بالائے نظام کا حصہ بن جائیں گے‘ جسے وہ توڑنا چاہتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کو اسمبلیوں کی باقی ماندہ مدت کے لیے وزیر اعظم رکھنے کے فیصلے کی تہہ میں بھی یہی سوچ کارفرما ہے کہ وہ نظریاتی طور پر جمہوری اقدار پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں‘ اور نواز شریف کی طرح اس معاملے میں کسی حد تک بھی جانے کے لیے تیار ہیں۔ چودھری نثار بھی مسلم لیگ ن کے اس کیمپ کا حصہ سمجھے جاتے ہیں جو ہر صورت میں مفاہمت سے کام چلانا چاہتا ہے۔ اگرچہ نواز شریف نے انہیں منا کر کابینہ میں لانے کی ہر ممکن کوشش کی‘ مگر جو چاہتے تھے انہیں نہ دے کر دیکھنے والوں پر واضح کر دیا کہ مفاہمت اب ان کی سیاست کا جزو تو ہو سکتی ہے، بنیاد نہیں۔ حکومت کے اندر شاہد خاقان عباسی کے علاو ہ خواجہ آصف، احسن اقبال، سعد رفیق اور اسحٰق ڈار کو نمایاں کردار دے کر اور حکومت کے باہر پرویز رشید اور رانا ثناء اللہ جیسے جمہوریت پسندوں کو اپنی مجلس مشاورت کا مستقل حصہ بنا کر نواز شریف نے اعلان کر دیا ہے کہ ان کی آئندہ سیاست کا رنگ ڈھنگ کیا ہو گا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جی ٹی روڈ پر گھر واپسی کی ریلی کے دوران جو کچھ کہا‘ اور لاہور کے وکلاء کنونشن میں جو سوالات اٹھائے، یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ ان کے حلقہء مشاورت میں معتدل سیاست کرنے والوں کے لیے گنجائش کم ہو گئی ہے۔ غلام احمد بلور کا خدشہ حقیقت بن رہا ہے اور نواز شریف پاکستان میں طاقت کے نظام کو طاقت کے ذریعے ٹھیک کرنے کے راستے پر چل پڑے ہیں۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے، وہ اس معاملے میں زیادہ انتہا پسند ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ مجمعے میں کھڑے ہو کر قانونی سوالات اٹھانا اور عدالتی فیصلہ واپس لینے کا بیان جاری کر دینا ان کے سخت رویے کے ابتدائی مظاہر ہیں۔ ان کا ہر قدم یہ بتا رہا ہے کہ اپنی طاقت کے زور پر اور جمہوریت کے نام پر ملکی نظام میں ایسی تبدیلیاں کرنے کی کوشش بھی کریں گے جو شاید ممکن نہ ہوں اور سب کے لیے قابل قبول بھی نہ ہو سکیں۔
مقبول سیاستدانوں کو ہوائی الزامات پر قانونی نظام کے ذریعے نااہل کرنے کی رسم جنرل ایوب خان نے ساٹھ برس پہلے شروع کی تھی۔ یہ طریقہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اتنا مقبول ہوا کہ خود سیاستدانوں نے بھی ایک دوسرے کے خلاف اس کے استعمال سے گریز نہیں کیا، مگر کوئی سیاستدان اپنے مخالف کو نااہل نہ کرا سکا۔ جنرل پرویز مشرف نے اس ہتھیار کو پیپلز پارٹی سے پیٹریاٹ اور ن لیگ سے ق لیگ برآمد کرنے کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا مگر ان کے بعد ایسا لگا کہ اب یہ حربہ کند ہو کر تاریخ کے کوڑے دان میں چلا گیا ہے۔ یہ طریقہ دستور کی تشریح سے دوبارہ زندگی پا گیا‘ اور سیاستدان ایک دوسرے کو گھسیٹتے ہوئے عدالتوں کی طرف لے جانے لگے۔ ماضی میں جو کام اسمبلی توڑ کر یا ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے کیا جاتا تھا‘ اب ایسا لگتا ہے نااہلی کے ذریعے کر لیا جائے گا۔ نواز شریف نے اسمبلی توڑنے اور ہارس ٹریڈنگ کا علاج دستور میں ترمیم کرکے کر لیا تھا۔ نااہلی کا توڑ کرنے کے لیے وہ ترمیم سے کچھ آگے کا سوچ رہے ہیں۔ وہ کامیاب ہو گئے تو بہت کچھ اس کی لپیٹ میں آ جائے گا‘ جو کسی کے لیے بھی اچھا نہیں ہو گا۔ نواز شریف کو اس کام سے روکنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ان پر بند ہو جانے والے دروازے کسی طریقے سے کھولے جائیں تاکہ وہ انتہاؤں کو چھوڑ کر اعتدال و توازن کے دائرے میں واپس آ جائیں۔ ہر نظام میں غلطیاں ہو جاتی ہیں، بہترین نظام وہی ہے جو اپنی غلطی کو جلد از جلد سدھار لے۔