جھوٹ بولنے کے انسانی دماغ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

18

لاہور (خصوصی مضمون) جھوٹ بولنا اچھی عادت نہیں ہے دنیا کے تمام مذاہب میں جھوٹ بولنا برا سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتے ہیں اور جھوٹ بولنے والی کی اپنی شخصیت اور کردار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔

ترقی یافتہ ممالک میں آئے روز مختلف موضوعات پر تحقیقات جاری و ساری رہتی ہیں اس حوالے سے گزشتہ دنوں مغربی ممالک میں جھوٹ کے حوالے سے دماغی ماہرین نے مختلف افراد پر تجربات کئے اور ان تجربات کی روشنی میں اپنے نتائج اخذ کئے اور ان اخز کئے نتائج کے مطابق جو شخص لگاتار جھوٹ بولتا اس کی وجہ سے اس کی شخصیت پر منفی اثرات تو پڑتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کا دماغ بھی بے حس ہوتا چلا جاتا ہے  اور اس بے حسی کی وجہ سے رفتہ رفتہ اس کو دوسروں کے جذبات واحساسات کی کوئی پرواہ نہیں رہتی اور اس کا دماغ ہر وقت کسی کو بھی بڑی آسانی کے ساتھ بڑے سے بڑے دھوکہ دینے کے لئے تیار رہتا ہے اور جھوٹ اس کے لئے ایک نارمل سی بات رہ جاتی ہے۔ حتی کے ایک وقت آتا ہے کہ اس کو اپنی زندگی میں سوائے اپنے اور کچھ نظر نہیں آتا اور اسکے قریبی رشتہ دار مثلاً اس کی بیوی، شوہر، بچے، ماں، باپ ، بہن ، بھائی کی بھی اس کی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں رہتی۔تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ایسے شخص وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لئے بھی پریشانی کا باعث بن جاتے ہیں